اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پہلے کمپیوٹر پھر انٹرنیٹ اور پھر موبائل فون کی ایجاد نے دنیا کو گلوبل ولیج میں تبدیل کر دیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کا استعمال اتنا بڑھ چکا ہے کہ یہ زندگی کا جز و لازم بن چکا ہے، شہروں اور دیہاتوں میں بکثرت استعمال ہو رہا ہے، خواندہ اور ناخواندہ اپنے اپنے طریقے اور ضرورت کے مطابق اس سہولت کا استعمال کر رہے ہیں اور اس کی کرامات سے مستفیض ہو رہے ہیں۔
یوں تو سوشل میڈیا کی تخلیق کا بنیادی مقصد مختصر وقت میں زیادہ سے زیادہ افراد تک اپنا پیغام پہنچانا تھا، اس مقصد میں کامیابی بھی ملی اور اب کوئی بھی خبر یا واقعہ محض چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، اور دنیا کے بیشتر ممالک تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ جس کی شہرت کے منفی یا مثبت ہونے کا سبب اس خبر یا واقعہ کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا اپنے استعمال کے لحاظ سے مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے، سوشل نیٹ ورکس مثلاً فیس بک، ٹویٹر، لنکڈ ان یہ وہ نیٹ ورک ہیں جہاں لوگ اپنا تفصیلی تعارف اور دیگر سیاسی، سماجی اور کبھی کبھی خانگی معاملات شیئر کرتے ہیں۔ اس ہی طرح مائیکرو بلاگنگ پورٹلز ہیں جیسے اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جہاں لوگ اپنی ویڈیوز اور دیگر تفریحی اور کاروباری سرگرمیاں شیئر کرتے ہیں، اسی طرح ویڈیو شیئر کیلے یو ٹیوب اور چیٹنگ کے لئے واٹس ایپ بہت مقبول ہیں اور بڑے پیمانے پر استعمال بھی کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ کچھ ایسی گیمنگ سائٹس بھی ہاں جہاں پر مختلف شہروں یا ملکوں کے لوگ مل کر ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں۔
اس وقت ملک کی 85 % آبادی کو ٹیلی کوم سروسز میسر ہیں، گزشتہ پانچ برسوں میں مجموعی براڈ بینڈ سبسکرپشن میں 175 % اضافہ ہوا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ جسے دیکھو سوشل میڈیا پر مصروف نظر آتا ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ تفریح کے ساتھ ساتھ کاروبار اور مثبت معاملات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں باقاعدہ اداروں کو چھوڑ کر انفرادی حیثیت میں لوگوں کی عمومی اکثریت انٹرنیٹ کو صرف خرافات کے لئے استعمال کر رہی ہے۔
وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ آہستہ آہستہ لوگوں کی نفسیات بنتا جا رہا ہے، اس کے استعمال نے بالخصوص سوشل میڈیا نے نئے اور پرانے، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ، شہری اور دیہاتی تمام لوگوں کی تفریق مٹا دی ہے، سوشل میڈیا پر دیکھیں تو پوری قوم کے روئیے قریب قریب یکساں نظر آتے ہیں۔ لوگوں کے اذہان اور ان کے رویوں پر سوشل میڈیا کا بے تحاشا اور بے دریغ استعمال بے شمار منفی رویوں کو جنم دے رہا ہے۔ جن کی وجہ سے دنیا میں موجود برائیوں کے نئے نئے ورژن متعارف ہو رہے ہیں اور بہت تیزی سے پھل پھول رہے ہیں۔
جس کی بنیادی وجہ کہیں تعلیم کی کمی اور کہیں تربیت کی کمی ہے، لوگ کم علمی کی وجہ سے بنا سوچے سمجھے سوشل میڈیا پر پھیلتے کسی بھی ٹرینڈ کو اپنا لیتے ہیں اور وہ باوجود اپنی تمام تر قباحتوں کے ہمارے معاشرے میں پروان چڑھنا شروع ہو جاتا ہے، اور ہو رہا ہے۔ جس کے منفی نتائج عام انسان کی زندگی پر بہت تیزی سے مرتب ہو رہے ہیں۔ تیزی سے پھیلتی ان برائیوں میں آج کل ایک (OME)نامی ٹی وی ایپ ایک ایسا آن لائن پلیٹ فارم ہے جو صارفین کو دنیا بھر کے اجنبیوں کے ساتھ ویڈیو چیٹ کرنے کیلئے جوڑتا ہے اسے ویڈیو چیٹ الٹرنیٹو (وی سی اے) نامی کمپنی نے تیار کیا ہے، جو جرمنی میں مقیم ہے۔
اس ایپ کے ذریعے چھوٹے اور بڑے بلا تکلف بہت ساری اخلاقی بے ضابطگیوں میں ملوث ہو رہے ہیں، جس کے منفی اثرات معاشرے پر مسلسل مرتب ہو رہے ہیں۔ جو نئی نئی برائیوں کو جنم دینے کا سبب بن رہے ہیں، مثال کے طور پردنیا بھر میں موجود فحش ویب سائٹس پر موجود غیر اخلاقی مواد کو دیکھنا اور پھر اسے اپنی زندگی میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کرنا۔
اوایم ای ٹی وی ایپ کےذریعے بدکاری و بداخلاقی کی تمام حدیں پار کی جا چکی ہیں۔ جو باقاعدگی سے ریکارڈ کی جاتی ہیں اور مختلف پورٹلز پر شیئر بھی کی جاتی ہیں۔ جن سے حوصلہ پاکر بچے بچیاں بھی انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں اور اپنی زندگی برباد کر بیٹھتے ہیں۔
ذیل میں چند تصویر دکھائی جارہی ہیں جو کہ ایک13 سالہ بچے کی ہیں۔

بچے کو ہاف ٹرم کی چھٹیاں ہیں اوراس ایپ کے ذریعے وہ بے راہ راوی کا شکار ہوچکا ہے۔

ایپ کے ذریعے بچہ اجنبیوں کے ساتھ محو گفتگوہے اورویڈیو پر بات کر رہا ہے۔

بے شمار پیشہ ور خواتین بچے اور بڑے اب او ایم ای ایپ پر موجود ہیں اور ہر گھڑی من پسند افرادسے گفتگوکی تلاش میں لگے رہتے ہیں وہ بلا تفریق کسی کو بھی اخلاق باختہ تصاویر اور ویڈیو بھیج دیتے ہیں جن کا زیادہ شکار نوعمر بچے بچیاں بھی ہورہی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں گھریلو و تجارتی صارفین انٹرنیٹ کے غیر اخلاقی استعمال پر پابندی لگائیں اور غیر معیاری و غیر اخلاقی ویب سائٹس کو دیکھنے پر پابندی عائد ہو جو با آسانی لگائی جا سکتی ہے۔ ورنہ قوم کا اخلاقی شیرازہ اس ہی طرح بکھرتا رہے گا۔











