اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز )فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کی جانب سے ججز اور بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت متاثرہ سرکاری ملازمین کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے متاثرہ ملازمین کی جانب سے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے مواقف اپنایا کہ ہماری درخواست الاٹمنٹ کے طریقہ کار کیخلاف ہےہاؤسنگ اتھارٹی کی جانب سے جونیئرز کو پلاٹ الاٹ کیے گئے جبکہ سینئرز کو نظرانداز کیا گیا2009 میں ہاوسنگ اتھارٹی نے عمر کی بنیاد والی پالیسی بدل دی تھی،2014 میں پھر عمر کی بنیاد والی پالیسی بحال کر دی گئی ۔ہاوسنگ اتھارٹی کی پالیسیوں کی وجہ سے ہزاروں ملازمین کے پلاٹ کینسل ہوگئے ۔جسٹس منیب اختر نے اپنے ریمارکس کیں کہا کہ آپ کا مسئلہ تو ڈیپارٹمنٹ کے الاٹمنٹ کے طریقہ کار سے متعلق ہےہم ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا معاملہ دیکھ رہے ہیں،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کے وکلا آئندہ سماعت پر جواب الجواب دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں،جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی











