جمعرات,  18 جون 2026ء
سوشل میڈیا سے سالانہ 6 سے 12 لاکھ تک کمانے والے تیار ہوجائیں ! اہم خبر آگئی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا کی کمائی پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز منظور کرلی گئی تاہم سالانہ 6 لاکھ تک آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک وغیرہ) سے کمانے والے پاکستانی صارفین کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ان کی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی حکومتی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔

یہ منظوری چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی، جس کے دوران سینیٹرز اور ایف بی آر حکام کے مابین دلچسپ نوک جھونک بھی دیکھنے کو ملی۔

اجلاس کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے بہت بڑی تعداد میں لوگ بھاری رقوم کما رہے ہیں، “ہم ان کی کمائی بند نہیں کر رہے، بلکہ حکومت سوشل میڈیا کی اس کمائی سے صرف اپنا جائز حصہ مانگ رہی ہے”۔

اس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے مسکراتے ہوئے کہا “سوشل میڈیا سے لوگوں کو کمانے دیں ناں! آپ اس لیے ٹیکس لینا چاہتے ہیں کیونکہ آپ کو وہاں سے ایک بڑی رقم حکومت کے پاس آتی ہوئی نظر آ رہی ہے”۔

سوشل میڈیا پر زیورات کی نمائش خاتون کو بہت مہنگی پڑ گئی!

کمیٹی کے ممبر سینیٹر عبدالقادر نے اس ٹیکس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نوجوان اپنی محنت سے ملک میں ڈالرز لا رہے ہیں تو انہیں آزادانہ کام کرنے دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ “جو لوگ معیشت کے اس دور میں اپنے بل بوتے پر کچھ کر رہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ ان کو چلنے دے اور ان پر بوجھ نہ ڈالے”۔ تاہم، بحث کے بعد قائمہ کمیٹی نے کثرتِ رائے سے 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی تجویز کو منظور کر لیا۔

چیئرمین ایف بی آر نے واضح کیا کہ یہ ٹیکس تمام سوشل میڈیا صارفین پر یکساں لاگو نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے آمدنی کی حد مقرر کی گئی ہے، سوشل میڈیا سے سالانہ 6 لاکھ روپے تک کمانے والوں پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا.

سالانہ 6 لاکھ سے لے کر 12 لاکھ روپے تک کمانے والے ڈیجیٹل کریٹرز پر 5 فیصد کے حساب سے ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے جہاں حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوگا، وہاں ڈیجیٹل فری لانسنگ اور کنٹینٹ کری ایشن کی انڈسٹری سے وابستہ نوجوانوں کی جانب سے اس فیصلے پر ملا جلا ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

مزید خبریں