پیر,  02 نومبر 2026ء
وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کا کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر کا دورہ، حریت قیادت سے اہم ملاقات

اسلام آباد: (روشن پاکستان نیوز) وزیراعظم ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی نے اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کنوینر غلام محمد صفی اور حریت قیادت سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات میں مسئلہ جموں و کشمیر، مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

حریت رہنما الطاف حسین وانی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری گرفتاریوں، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی نظربندی، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور دیگر بھارتی اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات، ڈومیسائل اور اراضی سے متعلق پالیسیوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور آبادیاتی شناخت تبدیل کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔

وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر ایک دیرینہ بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حقِ خودارادیت کی فراہمی میں مضمر ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں اور جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

حافظ آباد میں کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے یوم سیاہ منایا گیا

کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے وزیراعظم کے دورے اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت کی حمایت تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے حوصلے اور تقویت کا باعث ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے مشترکہ سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

اس موقع پر 6 نومبر یومِ شہدائے جموں کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے 1947ء کے شہدائے جموں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ شہدائے جموں کی قربانیاں تحریکِ آزادی کشمیر کا ناقابلِ فراموش باب ہیں اور ان کی یاد کو ہر سطح پر زندہ رکھا جائے گا۔

اختتام پر شہداء کشمیر اور شہداء پاکستان کے درجات کی بلندی، ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل اور تحریکِ آزادی کشمیر کی کامیابی، ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

مزید خبریں