اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد کشمیر و پاکستان شاخ) کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی کی ہفتہ وار بریفنگ میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ سے متعلق پیش کیے گئے مؤقف کا خیر مقدم کیا ہے۔
اپنے ایک پریس بیان میں مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اختیار کیا گیا واضح اور اصولی مؤقف درحقیقت کشمیری عوام کے دیرینہ مؤقف کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں رہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے جس کا حتمی حل تاحال باقی ہے۔
انہوں نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ اقدامات، انتظامی تبدیلیاں اور سیاسی انجینئرنگ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی ناکام کوشش بھی ہیں۔
مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں اس تنازعے کے حل کے لیے ایک واضح فریم ورک فراہم کرتی ہیں، جن کے تحت کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیا جانا تھا۔ تاہم دہائیوں گزرنے کے باوجود ان قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونا عالمی برادری کے لیے ایک اہم سوال ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرے اور منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ ساتھ ہی عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، اور انہیں اس بنیادی حق سے مزید محروم رکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
پریس بیان کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل نہ صرف کشمیری عوام کی امنگوں کی تکمیل کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔











