میلبورن(روشن پاکستان نیوز) صرف 25 منٹ تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہنا دل کی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے، یہ عمل رگوں میں خون کے جمنے کا باعث بن سکتا ہے جس سے ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
طویل وقت تک بیٹھے رہنے کو صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 25 منٹ تک مسلسل بیٹھنے کے منفی اثرات توقع سے کہیں پہلے شروع ہوسکتے ہیں۔
آسٹریلیا کی سوئن برن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق 25 منٹ سے زیادہ مسلسل بیٹھنے سے پٹھوں کی سرگرمی کم ہوجاتی ہے، جو طویل مدت میں دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہوسکتی ہے۔
یہ تحقیق طبی جریدے این جے پی میں شائع ہوئی ہے، جس کی سربراہی سوئن برن یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرسچن برکنرج نے کی۔
تحقیق کے دوران ماہرین نے خصوصی سینسرز سے لیس شارٹس استعمال کیے تاکہ روزمرہ زندگی میں لوگوں کے پٹھوں کی سرگرمی کو ریکارڈ کیا جاسکے، اس مقصد کے لیے 7 ہزار سے زائد مرتبہ بیٹھنے کے دورانیوں کا ڈیٹا جمع کیا گیا۔
افغان کرکٹ لیگ کا بڑا دعویٰ، ایلون مسک اور جیف بیزوس ٹیمیں خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص 25 منٹ سے زیادہ مسلسل بیٹھا رہتا ہے تو اس کے پٹھوں کی سرگرمی کم ہونے لگتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پٹھوں کی یہ کم سرگرمی خون کی روانی اور خون میں موجود شکر کو پٹھوں تک پہنچانے کے عمل کو متاثر کرسکتی ہے، جس کے نتیجے میں دل کی بیماری اور ٹائپ ٹو ذیابیطس جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر برکنرج کے مطابق طویل وقت تک بیٹھنے کے دوران پٹھے مختصر دورانیے تک بیٹھنے کے مقابلے میں کم فعال رہتے ہیں، تاہم اگر بیٹھنے کے دوران وقفے وقفے سے چلنے پھرنے یا ورزش کو معمول بنایا جائے تو بیٹھے ہوئے وقت میں بھی پٹھوں کی سرگرمی نسبتاً زیادہ رہ سکتی ہے۔
تحقیق میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ ہر قسم کا بیٹھنا یکساں نقصان دہ نہیں ہوتا، مثال کے طور پر گاڑی چلانے، دوستوں سے بات کرنے یا دفتر میں کام کرنے کے دوران جسم کے کچھ پٹھوں میں معمولی حرکت جاری رہتی ہے، جبکہ کئی گھنٹے مسلسل ایک ہی حالت میں بیٹھ کر فلم یا ٹی وی دیکھنے سے جسمانی سرگرمی انتہائی کم ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بیٹھے ہوئے وقت کے دوران ہونے والی معمولی حرکات بھی صحت پر مثبت اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایسی سرگرمیوں کا تعلق کم باڈی ماس انڈیکس کمر کے کم گھیر اور دل کی بیماری کے کم خطرے جیسے بہتر صحت کے نتائج سے دیکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر برکنرج نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی شخص روزانہ تقریباً 10 گھنٹے بیٹھ کر گزارتا ہے اور ہر 25 منٹ بعد کچھ دیر کے لیے اٹھ کر چلتا پھرتا ہے تو بیٹھنے کے دوران پٹھوں کی سرگرمی میں مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا اضافہ ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق اس طرح جاگنے کے اوقات میں پٹھوں کی غیرفعالیت میں تقریباً 10 فیصد کمی لائی جاسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے لازمی نہیں کہ ہر وقفے میں سخت ورزش کی جائے۔ پانی کا گلاس ختم ہونے کے بعد خود اٹھ کر دوبارہ پانی بھرنا، چند قدم چلنا یا بیٹھنے کی پوزیشن تبدیل کرنا بھی روزمرہ معمول میں حرکت بڑھانے کا آسان طریقہ ہوسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسے معمولی اقدامات خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہیں جو ملازمت یا دیگر مصروفیات کے باعث دن کا بڑا حصہ کمپیوٹر یا موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھ کر گزارتے ہیں۔











