بدھ,  14 اکتوبر 2026ء
ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کا کیس: اقرار الحسن کا جسمانی ریمانڈ منظور

کراچی(کرائم رپورٹر) قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے الزام سے متعلق مقدمے میں معروف ٹی وی اینکر اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو کراچی کی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کردیا، جہاں عدالت نے انہیں 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کردیا۔

دورانِ سماعت عدالت نے اقرار الحسن سے استفسار کیا کہ کیا ان پر تشدد کیا گیا ہے؟ اس پر اقرار الحسن نے جواب دیا کہ انہیں مارا پیٹا نہیں گیا۔ عدالت نے مزید پوچھا کہ کیا انہوں نے اپنا وکیل مقرر کیا ہے، جس پر اقرار الحسن نے بتایا کہ تاحال انہوں نے کوئی وکیل نہیں کیا۔

اسلام آبادپولیس کی اہم کارروائی: نواب آف بہاولپور فیملی کے گھر چوری میں ملوث 6 ملزمان گرفتار، کیا کچھ برآمد کرلیا گیا؟

این سی سی آئی اے کے حکام نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے تاکہ مقدمے کے سلسلے میں تفتیش کی جاسکے۔ تاہم عدالت نے استدعا منظور کرنے کے بجائے اقرار الحسن کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایجنسی کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

اقرار الحسن کے خلاف این سی سی آئی اے میں مقدمہ نمبر 101/2026 درج ہے۔ مقدمے میں ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے سے متعلق الزامات کی تفتیش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ اقرار الحسن کی گرفتاری سے متعلق اطلاعات گزشتہ روز سامنے آئی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کے گھر سے رات گئے گرفتار کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ رات تقریباً 3 بجے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ ان کے ہمراہ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں جن کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا نام درج تھا۔

نجی ٹی وی کے اینکر پرسن وسیم بادامی، جو اقرار الحسن کے ساتھ متعدد پروگراموں میں کام کرچکے ہیں، نے بھی ایک ویڈیو میں ان کی گرفتاری سے متعلق اطلاعات ملنے کی تصدیق کی تھی۔

اقرار الحسن نجی ٹی وی کے سابق اینکر پرسن ہونے کے ساتھ سیاسی جماعت عوام راج تحریک کے سربراہ بھی ہیں۔ مقدمے میں عائد الزامات کے حوالے سے ان کا مؤقف اور تفتیش کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

مزید خبریں