منگل,  13 اکتوبر 2026ء
پیپلز پارٹی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں گورنر راج پر سوالات، آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے کیا جواب دیا؟

اسلام آباد(محب) پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر ارکان نے قیادت سے سوالات کیے۔ ذرائع کے مطابق ارکان نے استفسار کیا کہ گورنر راج کی حمایت کرکے مستقبل کے لیے کون سا راستہ کھولا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت نے جواب دیا کہ تحریک انصاف کو سیاسی حل کا موقع فراہم کیا گیا، تاہم وہ اس پر آمادہ نہیں ہوئی، اس صورت میں دوسرا آپشن کیا تھا؟ قیادت نے ارکان کو بتایا کہ اگر گورنر راج پر اتفاق نہ کیا جاتا تو شاید پورے ملک میں نظام لپیٹ دیا جاتا۔

اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جذباتی نعرے اور جذباتی باتیں ان کے سامنے نہ کی جائیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں، وہ موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق قیادت نے سندھ کی تقسیم کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ کسی نے آزمانا ہے تو آزما لے۔

صدر آصف علی زرداری نے گفتگو میں کہا کہ حکومت اور ریاست کو بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی حل کی کوشش کی گئی تھی اور بات آگے بڑھ چکی تھی۔

کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ حادثے کا شکار، میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور کیپٹن عبدالصمد شہید

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دہشت گردوں کو دہشت گرد کہتے تو شاید ان کی حکومت نہ جاتی۔

اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی کو موجودہ صورت حال کے حل کے لیے دو ممکنہ راستوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق بتایا گیا کہ ان میں سے ایک راستہ اختیار کیا جا چکا ہے، جبکہ دوسرا اختیار کرنے کی صورت میں پورا نظام لپیٹ دیا جاتا۔

مزید خبریں