دودھ پتی پینے والے ہوشیار، ماہرغذائیت نے خبردار کردیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) دودھ پتی چائے اگرچہ خوش ذائقہ ہے اس کے فوائد بھی ہیں لیکن صحت کے حوالے سے اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا خطرناک ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں ماہر غذائیت حنا انیس نے دودھ پتی چائے کے فوائد اور نقصانات سے ناظرین کو تفصیل سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ چائے کا انحصار اس بات پر ہے کہ یہ کس طریقے سے تیار کی گئی ہے، اس کے مزید اجزا کیا ہیں اور اس کی تیاری میں کون سی پتی استعمال کی گئی ہے؟۔

حنا انیس نے کہا کہ چائے اگرچہ برصغیر کی ثقافت کا اہم حصہ ہے، لیکن اس کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، دن میں تین سے چار کپ سے زیادہ چائے پینا مناسب نہیں جبکہ بہت زیادہ دودھ، چینی اور کڑک پتی والی چائے مختلف طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ دودھ پتی چائے میں زیادہ چینی شامل کرنے سے جسم میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جبکہ زیادہ کڑک چائے اور دودھ کے ساتھ پکائی گئی چائے بعض افراد میں بدہضمی، پیٹ پھولنے اور لییکٹوز عدم برداشت جیسے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ چائے کو صحت بخش بنانے کے لیے بلیک ٹی، گرین ٹی یا ہلکی چائے استعمال کی جائے، جس میں ادرک، الائچی، دار چینی، لونگ یا سونف شامل کی جاسکتی ہے، یہ اجزاء نہ صرف ذائقہ بہتر بناتے ہیں بلکہ نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ہیں۔

ماہر غذائیت نے بتایا کہ سونے سے 3 سے 4 گھنٹے قبل چائے یا کیفین والے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ نیند متاثر کرسکتے ہیں،خاص طور پر رات کے کھانے کے بعد دودھ پتی چائے پینے کی عادت کو ترک کردینا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے چائے کے ساتھ سگریٹ نوشی کو بھی انتہائی خطرناک امتزاج قرار دیا اور کہا کہ چائے اور سگریٹ دونوں جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتے ہیں، جس سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

موبائل صارفین بیلنس کٹوتی سے کیسے محفوظ رہیں؟ بالکل مفت اور آسان طریقہ

انہوں نے مزید کہا کہ گرین ٹی اور مچا اگر سادہ گرم پانی کے ساتھ پی جائے تو فائدہ مند ہے، تاہم اس میں دودھ، کریم اور چینی شامل کر دینے سے اس کے فوائد کم ہو جاتے ہیں۔

محنھا انیس کا مزید کہنا تھا کہ چائے سے مکمل پرہیز ضروری نہیں لیکن اعتدال کے ساتھ چھوٹے کپوں میں چائے پینا اور پانی کا استعمال بڑھانا صحت کے لیے بہتر ہے۔

مزید خبریں