لندن (روشن پاکستان نیوز) پاکستانی نژاد عالمی ماہرِ اقتصادیات سعدیہ زاہدی کو انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کا نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا گیا ہے، یوں وہ ادارے کی 80 سالہ تاریخ میں اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔
آئی اے ٹی اے کے سرکاری اعلان کے مطابق سعدیہ زاہدی یکم نومبر 2026 کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گی۔ موجودہ ڈائریکٹر جنرل ولی والش 31 جولائی 2026 کو اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔
لاہور میں پیدا ہونے والی سعدیہ زاہدی اس وقت ورلڈ اکنامک فورم (WEF) میں منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ عالمی معیشت، عوامی پالیسی اور بین الاقوامی ترقی کے شعبوں میں اپنی مہارت کے باعث عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہیں، جبکہ ان کی تقرری کو عالمی ہوا بازی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
سعدیہ زاہدی نے اکنامکس میں اسمتھ کالج سے بیچلر ڈگری، گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ سے ایم فل اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹر آف پبلک ایڈمنسٹریشن (MPA) کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ معروف کتاب “Fifty Million Rising” کی مصنفہ بھی ہیں۔
سابق گورنرچوہدری محمدسرور کے فرزندانس سرور برطانیہ کے وزیرتجارت مقرر
آئی اے ٹی اے کے بورڈ آف گورنرز نے اپنے بیان میں سعدیہ زاہدی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سربراہی میں تنظیم عالمی ایئرلائن انڈسٹری کو درپیش بدلتے ہوئے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے قابل ہوگی۔
اپنی تقرری پر ردعمل دیتے ہوئے سعدیہ زاہدی نے کہا کہ وہ رکن ایئرلائنز، حکومتوں اور صنعت سے وابستہ دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک محفوظ، مؤثر، جدید اور ماحول دوست عالمی فضائی نظام کے فروغ کے لیے کام کرنے کی منتظر ہیں۔
وہ ایسے وقت میں آئی اے ٹی اے کی قیادت سنبھال رہی ہیں جب عالمی ہوا بازی کا شعبہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین کے مسائل اور ماحولیاتی و موسمیاتی اہداف کے حصول جیسے بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔
سعدیہ زاہدی کی تقرری نہ صرف آئی اے ٹی اے بلکہ عالمی ہوا بازی میں خواتین کی قیادت کے لیے بھی ایک تاریخی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جو صنعت میں تنوع اور شمولیتی طرز حکمرانی کے فروغ کی عکاس ہے۔











