بدھ,  14 اکتوبر 2026ء
یونیورسٹی ٹاؤن متاثرین کا نیب راولپنڈی کے باہر احتجاج، پلاٹس کا قبضہ دینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان  نیوز) یونیورسٹی ٹاؤن راولپنڈی کے متاثرین نے اپنے پلاٹس پر قبضہ نہ ملنے اور طویل عرصے سے جاری مسائل کے خلاف نیب راولپنڈی آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے سوسائٹی انتظامیہ اور متعلقہ تفتیشی افسر کے کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے مسائل کا فوری اور شفاف طریقے سے ازالہ کیا جائے اور عرصہ دراز سے رکے ہوئے پلاٹس کے قبضے مالکان کے حوالے کیے جائیں۔مظاہرین کی قیادت ارشد حسین زلمی، ملک نثار احمد، شفقت آرائیں، ہارون الرشید، خالد مسعود باجوہ اور دیگر متاثرین کر رہے تھے۔ اس موقع پر مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے حقوق کے تحفظ، پلاٹس کا قبضہ دلانے اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جمع پونجی سے پلاٹس خریدے اور مقررہ تقاضے پورے کیے، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود انہیں اپنے پلاٹس کا قبضہ نہیں دیا جا رہا، اور اب نیب 382 درخواست دہندگان میں سے 77 مخصوص لوگوں کو پلاٹ دینے کا ڈرامہ کر کے یونیورسٹی ٹاؤن انتظامیہ کے خلاف جاری فراڈ اور دھوکہ دہی کی اس انکوائری کو بند کرنا چاہتی ھے۔ اور ٹاؤن انتظامیہ کے ایما پر متاثرین کے نمائندگان کو ہراساں کرنے کیلئے نوٹس دیئے جا رہے ہیں۔ جس کی متاثرین نے شدید الفاظ میں مذمت بھی کی اور مطالبہ کیا کہ نیب یہ نوٹس واپس لے۔ ان حالات نے متاثرین کو کے شدید ذہنی اور مالی مشکلات سے دوچار کر رکھا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی ٹاؤن کے متاثرین کی شکایات اور پلاٹس کے معاملات کی تحقیقات کے دوران متعلقہ تفتیشی افسر کی جانب سے سوسائٹی انتظامیہ کا مؤقف زیادہ اہمیت دینے کا تاثر پیدا ہوا ہے، جس پر متاثرین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تحقیقات کو مکمل طور پر غیرجانبدار رکھا جائے اور متاثرین کا مؤقف بھی شفاف انداز میں ریکارڈ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نیب ایک قومی احتسابی ادارہ ہے اور متاثرین کو اس ادارے سے انصاف کی امید ہے، اس لیے ضروری ہے کہ معاملے کی تمام دستاویزات، ریکارڈ اور متاثرین کے بیانات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بروقت انصاف نہ ملا تو وہ اپنے آئینی و قانونی حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی ٹاؤن راولپنڈی کے متاثرین کے دیرینہ مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، رکے ہوئے پلاٹس کے قبضے اصل مالکان کو دئیے جائیں، سوسائٹی انتظامیہ کے خلاف شکایات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور کسی بھی فریق کو تحقیقات پر اثرانداز ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ کسی تصادم یا غیرقانونی اقدام کے بجائے قانونی اور آئینی طریقے سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور متعلقہ اداروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ متاثرین کی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کریں گے۔

مزید خبریں