محکموں کی ہٹ دھرمی کے باعث درخواست گزاروں کو پنجاب انفارمیشن کمیشن اور عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور۔
حافظ آباد(شوکت علی وٹو)ضلع حافظ آباد میں پنجاب ٹرانسپرنسی ایکٹ رائٹ ٹو انفارمیشن 2013 کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں،اس ایکٹ کے تحت حساس، دفاعی معلومات کے علاوہ ہر قسم کی معلومات ہر شہری لے سکتا ہے اور محکمہ جات معلومات دینے کے پابند ہیں، اب تک مختلف محکمہ جات کو دی جانی والی تحریری درخواستیں کے مطابق معلومات نہیں دی جا رہی، ان میں واسا، ہائی وے، بلڈنگ ڈپارٹمنٹ، میونسپل کمیٹی، ایجوکیشن سمیت کوئی بھی محکمہ سے معلومات نہیں دیتے، تمام محکموں میں انفارمیشن آفیسر مقرر کرنا ضروری ہے جو تاحال نہیں کیے گئے.شفافیت و حقِ معلومات قانون 2013 کی کھلم کھلا خلاف ورزی نے ضلعی سطح پر سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، شفافیت کو یقینی بنانے اور عوام کو معلومات تک رسائی دینے کے لیے بنایا گیا یہ اہم قانون عملاً کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے حافظ آباد میں صورتحال نہایت تشویشناک ہے جہاں افسران نہ صرف معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہیں سائلین کو ٹال مٹول، بے جا اعتراضات اور دانستہ تاخیری حربوں کے ذریعے مسلسل پریشان کیا جا رہا ہے، یہ رویہ نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اختیارات کے کھلے ناجائز استعمال کے مترادف بھی ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد سرکاری دفاتر میں درخواستیں مہینوں بلکہ سالہا سال تک زیر التواء رکھی جاتی ہیں اور متعلقہ افسران کسی قسم کی جوابدہی سے مبرا نظر آتے ہیں، پنجاب انفارمیشن کمیشن جو کہ اس قانون کے تحت شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا وہاں بھی بروقت شنوائی نہ ہونے، افسران کی عدم دستیابی اور عملے کی سست روی کے باعث سائلین کو بار بار تاریخیں دے کر ٹرخایا جاتا ہے جس سے شہری شدید ذہنی اذیت اور مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں، صورت حال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ کئی مواقع پر شہریوں کو اپنے جائز حق کے حصول کے لیے ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنا پڑتی ہے قیمتی سمیت جیب سے بھاری اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تب جا کر متعلقہ محکمے حرکت میں آتے ہیں اور معلومات یا ریکارڈ کی نقولات فراہم کی جاتی ہیں، ماہرین کے مطابق اگر اس قانون پر حقیقی معنوں میں سختی سے عملدرآمد کیا جائے تو کرپشن، مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کا مؤثر سدباب ممکن ہے مگر موجودہ حالات میں یہ قانون اپنی افادیت کھو چکا ہے، شہری، وکلاء اور سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین غفلت کا فوری نوٹس لیں، متعلقہ محکموں کو قانون پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے، معلومات چھپانے اور شہریوں کو تنگ کرنے والے افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور پنجاب انفارمیشن کمیشن کی کارکردگی کو مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام کو ان کا آئینی و قانونی حق عملی طور پر میسر آ سکے اور شفاف حکمرانی کے دعوے محض نعرے بازی تک محدود نہ رہیں۔











