تشدد انسانیت کے خلاف جرم ہے: مقبوضہ کشمیر کی اسیر حریت قیادت و کارکنان کی فوری رہائی ناگزیر ہے، مشتاق احمد بٹ

اسلام آباد : (روشن پاکستان نیوز) تشدد اور ایذا رسانی کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر تحریک شباب المسلمین جموں و کشمیر کے وائس چیئرمین مشتاق احمد بٹ نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، ماورائے عدالت تشدد، حراستی اموات اور کشمیری حریت قیادت و کارکنان کے خلاف جاری ظلم و جبر کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور انصاف و انسانیت پر یقین رکھنے والے تمام ممالک سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں وائیس چیئرمین تحریک شباب المسلمین جموں و کشمیر مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے ریاستی تشدد، جبر، خوف اور غیر انسانی سلوک کا شکار ہے۔
بھارتی فورسز اور تحقیقاتی اداروں کے زیرِ انتظام قائم سینکڑوں حراستی مراکز، تفتیشی سیلوں اور عقوبت خانوں میں ہزاروں کشمیری نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کو جسمانی اور ذہنی اذیتوں سے گزارا جاتا ہے۔
ان مراکز میں ہونے والے تشدد کی داستانیں انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں، جہاں قیدیوں کو طویل تنہائی، شدید جسمانی تشدد، برقی جھٹکوں، نیند سے محرومی، نفسیاتی دباؤ، تضحیک آمیز سلوک اور دیگر غیر انسانی ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مظالم کے نتیجے میں بے شمار کشمیری نوجوان مستقل معذوری کا شکار ہوئے، سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوئے جبکہ ہزاروں افراد آج بھی جسمانی اور ذہنی اذیتوں کے اثرات کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر کے متعدد علاقوں میں ایسے خاندان موجود ہیں جن کے افراد برسوں کی قید، تشدد اور اذیت کے باعث معمول کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہے۔

مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافتی اداروں اور مبصرین نے اپنی رپورٹس میں مقبوضہ کشمیر میں تشدد، جبری گمشدگیوں، حراستی اموات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے، مگر افسوس کہ عالمی طاقتوں کی خاموشی اور دوہرے معیار نے بھارت کو جوابدہی سے بچائے رکھا ہے۔ یہی خاموشی مظلوم کشمیری عوام کے خلاف مزید ظلم و جبر کی حوصلہ افزائی کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے عدالتی اور تحقیقاتی ادارے بھی کشمیریوں کے معاملے میں غیر جانبداری اور انصاف کے بنیادی اصولوں پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔ کشمیری عوام کا اعتماد ان اداروں پر مسلسل مجروح ہوا ہے اور متعدد مقدمات کو سیاسی انتقام اور دباؤ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ بھارت کی مختلف جیلوں اور حراستی مراکز میں اس وقت درجنوں ممتاز کشمیری حریت رہنما اور کارکن انتہائی نامساعد حالات میں قید ہیں۔ ان میں ، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، یسین ملک ،آسیہ اندرابی، مولوی بشیر عرفانی، نعیم خان، ایاز اکبر، غلام قادر بٹ اور دیگر بے شمار حریت قائدین شامل ہیں۔ کشمیری عوام کو شدید خدشہ ہے کہ مسلسل غیر انسانی سلوک، طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور طویل نظربندی ان قیدیوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی متعدد کشمیری رہنما حراست کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں محمد اشرف خان صحرائی اور الطاف احمد شاہ نمایاں ہیں۔ یہ واقعات عالمی برادری کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید انسانی المیے جنم لے سکتے ہیں۔

مشتاق احمد بٹ نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، بین الاقوامی ریڈ کراس اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی جیلوں، حراستی مراکز اور تفتیشی سیلوں تک آزادانہ رسائی حاصل کریں ، کشمیری اسیران سے براہِ راست ملاقات کریں، ان کے حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور ذمہ دار عناصر کو بین الاقوامی قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرائیں۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول جرم ہے اور کشمیری عوام کے خلاف ہونے والے مظالم کو نظر انداز کرنا عالمی انسانی حقوق کے نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور حقِ خودارادیت کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے۔

آخر میں مشتاق احمد بٹ نے مطالبہ کیا کہ تمام کشمیری سیاسی قیدیوں اور حریت رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، حراستی تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا پیدائشی اور تسلیم شدہ حقِ خودارادیت فراہم کیا جائے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، انصاف اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

مزید خبریں