واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکا، روس اور چین کے درمیان چاند پر جوہری ری ایکٹر نصب کرنے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے رواں سال جنوری میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2030 کے اختتام تک چاند کی سطح پر جوہری ری ایکٹر تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ روس اور چین مشترکہ طور پر 2036 تک ایسا ہی منصوبہ مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ان ری ایکٹرز سے چاند پر انسانی رہائش کے مراکز، سائنسی تحقیق اور معدنیات کی کان کنی کے لیے بجلی فراہم کی جائے گی۔
امریکی منصوبے کے تحت ’ لُونر ری ایکٹر ون‘(Lunar Reactor 1) تقریباً 20 کلوواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھے گا اور بغیر مرمت کے پانچ سال تک کام کر سکے گا۔ دوسری جانب روس کا تیار کردہ ’ سیلینا‘(Selena) ری ایکٹر 10 کلوواٹ بجلی پیدا کرے گا اور ایک دہائی تک دیکھ بھال کے بغیر چلنے کی صلاحیت رکھے گا۔ اس کا وزن تقریباً 1100 سے 1300 کلوگرام متوقع ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ان ری ایکٹرز سے چاند کے جنوبی قطب کے قریب موجود برفیلے ذخائر سے پانی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جسے پینے، آکسیجن اور راکٹ ایندھن کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ شمسی توانائی محدود ہونے کے باعث جوہری توانائی کو زیادہ مؤثر متبادل سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ چاند کے کسی ایک مقام پر تقریباً دو ہفتے مسلسل رات رہتی ہے۔
اس منصوبے کی ایک بڑی وجہ خلائی میدان میں عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتا ہوا جغرافیائی اور عسکری مقابلہ بھی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں ایک انتظامی حکم کے ذریعے ناسا کو 2030 تک قمری جوہری ری ایکٹر کی تیاری اور لانچ کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ بھی چاند پر اپنے مشترکہ منصوبوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اصل چیلنج صرف ری ایکٹر کی تیاری نہیں بلکہ اسے محفوظ طریقے سے چاند پر اتارنا، وہاں نصب کرنا اور طویل عرصے تک فعال رکھنا ہے۔ ماضی میں سوویت یونین کے 1978 میں تباہ ہونے والے جوہری سیٹلائٹ کوسموس 954 سے کینیڈا کے تقریباً ایک لاکھ 24 ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں تابکار مواد پھیل گیا تھا، جس کی صفائی پر بھاری اخراجات اٹھانا پڑے تھے۔
مہنگائی پر عوام کا گلہ درست ہے، اس مہنگائی میں ہمارا نہیں ٹرمپ کا قصور ہے، رانا ثنا اللہ
قانونی طور پر 1967 کا بین الاقوامی معاہدہ کسی بھی ملک کو چاند یا اس کے کسی حصے پر ملکیت کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، تاہم وہاں بھیجے گئے آلات متعلقہ ملک کی ملکیت رہتے ہیں۔ معاہدے کے تحت خلائی سرگرمیوں کو پُرامن مقاصد تک محدود رکھنے اور نقصان دہ آلودگی سے بچنے کی شرائط بھی موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند پر پانی کے ذخائر کے قریب ری ایکٹر نصب کرنے والا ملک عملی طور پر اپنے گرد حفاظتی زون قائم کر سکتا ہے، جس سے دوسرے ممالک کی وہاں رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی حادثے کی صورت میں ذمہ داری کا تعین بھی ایک اہم قانونی مسئلہ بن سکتا ہے۔











