جمعرات,  29 اکتوبر 2026ء
جے یو آئی اور مرکزی حکومت آمنے سامنے

پختونخوا میں گورنر راج کے بعد تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی بجائے مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے درمیان معاملات بگڑنے لگے ہیں ۔ کل پارلیمنٹ میں مولانا فضل الرحمان کی سخت تقریر کی وجہ سے پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے بیچ ٹھن گئی ہے ۔

مولانا نے اپنی کل کی تقریر میں حکومت اور ریاست کو آڑے ہاتھوں لیا اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہی ماضی کے ایک جملے ” کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے ” کو خواجہ صاحب پر واپس پھینک دیا ۔ آج اس تقریر کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا کی سیاست پر انتہائی سخت اعتراضات کیے اور کہا کہ مولانا مذہبی سیاست کے نام پر مفادات حاصل کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا دس سال تک کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے جس کی وجہ سے انہوں نے خوب مراعات حاصل کیں لیکن کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کوئی کار کردگی نہیں دکھائی ۔

محسن نقوی نے کہا کہ جب تک مولانا ریاست سے فائدے اٹھاتے رہے انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا ، جب تک انکا بیٹا وفاقی وزیر تھا ریاست پر انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن آج وہ ریاست پر تھوک رہے ہیں ۔

خواجہ آصف نے کہا اس میں ہماری بھی غلطیاں ہیں کہ ہم نے بہت کمپرومائز سے کام لیا مگر اب ہم انہیں گھر تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا ہے میں آپ کو دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر ہم پختونخوا کے گورنر راج میں انہیں حصہ دیتے تو وہ کل والی تقریر ہر گز نا کرتے ۔

وفاقی وزراء کی جوابی تقریروں کے دوران جے یو آئی کے ارکان پارلیمنٹ نے بہت شور مچایا لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ محسن نقوی کی تقریر میں جب جے یو آئی کے ارکان کی طرف سے شور مچایا جا رہا تھا تو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ خاموش تھے اور انہوں نے اپنے وزیر کا بظاہر کوئی ساتھ نہیں دیا ۔

شاید انہیں مولانا کی سیاست کا قد معلوم ہے لہذا وہ بلا وجہ مولانا سے دشمنی مول لے کر اپنی حکومت کے لیے مزید مسائل کھڑے نہیں کرنا چاہتے ۔ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ کل تک تحریک انصاف والے مولانا کا مذاق اڑاتے تھے لیکن آج وہ انہی کے سایہ عافیت میں بیٹھنے پر مجبور ہیں اس لیے چونکہ نقوی صاحب تو شاید کل ہوں نہ ہوں مولانا کی ضرورت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو پڑ سکتی ہے ۔

داؤد درانی

مزید خبریں