هفته,  03 اکتوبر 2026ء
فلائی دبئی پرواز میں پائلٹ پر حملہ، مبینہ حملہ آور کی شناخت اب تک کیوں ظاہر نہیں کی گئی؟

دبئی(روشن پاکستان نیوز)  فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں کاک پٹ کے اندر فرسٹ آفیسر کی جانب سے ساتھی پائلٹ پر مبینہ چاقو سے حملے کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

فلائی دبئی کے مطابق پرواز FZ1073 نے 30 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسرائیل کے بن گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کیلئے اڑان بھری تھی۔ دورانِ پرواز کاک پٹ میں عملے کے دو ارکان کے درمیان تنازع پیش آیا، جس کے بعد طیارے کو دوبارہ قابو میں لایا گیا اور تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتارا گیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ عملے نے طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے بعد پرواز کا رخ تبدیل کیا اور اسے تبوک پہنچایا۔ فلائی دبئی نے ابتدائی بیان میں واقعے کی اصل وجوہات اور محرکات کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی حقائق سرکاری تحقیقات کے ذریعے سامنے آئیں گے۔

اطلاعات کے مطابق واقعے میں طیارے کے کپتان کو زخمی حالت میں طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ مبینہ حملہ آور فرسٹ آفیسر کی شناخت اور واقعے کے محرکات سے متعلق تمام تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں۔

فلائی دبئی کی پرواز میں ہنگامی صورتحال، ہائی جیکنگ کے خدشے نے کھلبلی مچا دی

اس واقعے نے اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ مبینہ حملہ آور کا تعلق عمان سے ہے اور وہ مبینہ طور پر انتہاپسندانہ نظریاتی تربیت سے گزرا تھا۔ تاہم یہ دعویٰ تاحال آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا اور واقعے کی سرکاری تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ہیں۔

پرواز کے دوران طیارے کے اچانک بلندی کم کرنے کے بعد مسافروں میں بھی تشویش پھیلی، تاہم عملے نے صورتحال پر قابو پاتے ہوئے طیارے کو محفوظ مقام پر اتار لیا۔ فلائی دبئی نے تصدیق کی ہے کہ تمام مسافر اور عملہ محفوظ ہیں اور کمپنی متعلقہ حکام کے ساتھ تحقیقات میں تعاون کر رہی ہے۔

فلائی دبئی کے مطابق مسافروں اور عملے کو تبوک سے متبادل طیاروں کے ذریعے ان کی منزل تک پہنچانے کے انتظامات کیے گئے۔ کمپنی نے واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے تک اس کے اسباب اور محرکات کے بارے میں حتمی رائے قائم نہ کرنے پر زور دیا ہے۔

واقعے کے بعد دبئی اور تل ابیب کے درمیان فلائی دبئی کی پروازوں کے حوالے سے بھی عارضی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جبکہ متعلقہ حکام واقعے کے سکیورٹی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

طیارے کے فرسٹ آفیسر کو شریک پائلٹ بھی کہا جاتا ہے اور وہ کپتان کے ساتھ پرواز کے محفوظ آپریشن میں اہم ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ کسی ہنگامی صورتحال میں کپتان کے ذمہ داریاں انجام دینے سے قاصر ہونے کی صورت میں شریک پائلٹ طیارے کی کمان سنبھال سکتا ہے۔

فلائی دبئی نے واضح کیا ہے کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے اور واقعے سے متعلق مزید معلومات سرکاری تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر جاری کی جائیں گی۔

مزید خبریں