اسلام آباد(کرائم رپورٹر) کراچی کمپنی پولیس نے صحافی رانا عثمان کی گرفتاری کے معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سوشل میڈیا پر معاملہ پوسٹ کرنے کی پاداش میں نہیں بلکہ پمز اسپتال کی پارکنگ میں ہونے والے جھگڑے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق پمز اسپتال کے کار پارکنگ/گیراج ایریا میں رانا کوثر اور شہریار کے درمیان جھگڑا ہوا، اطلاع ملنے پر دونوں فریقین کو قانونی کارروائی کے لیے تھانہ کراچی کمپنی منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تھانے میں بھی دونوں فریقین کے درمیان دوبارہ تلخ کلامی، گالم گلوچ اور ہاتھا پائی ہوئی، جس پر ایس آئی احسان اللہ نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے متعلقہ افراد کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق بعد ازاں ہدایت کی گئی کہ صرف براہ راست جھگڑے میں ملوث افراد کو حراست میں رکھا جائے جبکہ دیگر کو رہا کردیا جائے، جس کے بعد رانا عثمان سمیت دیگر افراد کو لاک اپ سے رہا کردیا گیا اور رانا عثمان تھانے سے روانہ ہوگئے۔
سحر کامران کا صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کا مطالبہ
پولیس نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز اے ایس آئی فیاض الحسن ایک مشتبہ شخص کو تھانہ کراچی کمپنی منتقل کر رہے تھے کہ وہ پولیس گاڑی سے چھلانگ لگا کر راستے میں فرار ہوگیا۔
پولیس کے مطابق رانا عثمان نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر واقعے کو مختلف انداز میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں آن لائن پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا، تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ انہیں پمز اسپتال میں ہونے والے جھگڑے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور بعد ازاں رہا کردیا گیا۔











