لاہور(روشن پاکستان نیوز) اداکارہ مومنہ اقبال نے ہراسانی اور دھمکیوں کے مقدمے کے حوالے سے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس کیس کو کسی صورت ادھورا نہیں چھوڑوں گی۔
لاہور کی سیشن عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مومنہ اقبال نے کہا کہ میں پہلے دن سے مطالبہ کر رہی ہوں کہ معاملے کی تحقیقات غیر جانب دارانہ انداز میں کی جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی لڑکی اپنی شادی سے صرف 10 روز قبل بلاوجہ اس نوعیت کا معاملہ سامنے نہیں لاتی۔
اداکارہ نے کہا کہ میں نے ان لوگوں کی بات پر اعتماد کیا جو یہ کہتے رہے کہ انہیں معاملے کے دونوں فریقوں کی کہانی معلوم ہے، تاہم اب میں اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے جج کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا
مومنہ اقبال نے واضح الفاظ میں کہا کہ چاہے جسے مرضی میرے خلاف کھڑا کیا جائے یا کسی کو بھی معاملے میں مداخلت کے لیے آمادہ کیا جائے، میں کیس کو ایسے نہیں چھوڑوں گی۔
اداکارہ نے کہا کہ اگر مجھے قانونی طریقے سے انصاف نہ ملا تو میں ہراسانی سے متعلق اپنے پاس موجود شواہد سوشل میڈیا پر سامنے لاؤں گی تاکہ عوام خود حقائق کا فیصلہ کر سکیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے صلح کی پیشکشیں کی گئی اور معاملہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
مومنہ اقبال نے تفتیش کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سے مناسب انداز میں تحقیقات نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائی تھی۔











