جمعه,  14  اگست 2026ء
جشن آزادی مگر کیوں؟

ایک زمانہ تھا کہ ہم بھی یوم آزادی بڑے جوش وخروش سے منایا کرتے تھے کیونکہ اس وقت تک ہمارا یہ خیال تھا کہ یہ ملک تو ہمارا ہے جس کو ہمارے بڑوں نے لاتعداد قربانیاں دے کر ہمارے لیے آذاد کروایا ہے لہذا 14 اگست کو جتنی بھی خوشی منائی جائے وہ کم ہے ۔

مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں یہ احساس ہونے لگا کہ یہ ملک تو ہمارے لیے نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقے کے لیے بنایا گیا اور اس ملک میں ہر قسم کے وسائل پر اسی طبقے کا حق ہے اور ہم تو صرف خواہ مخواہ ہیں ۔ ہم پہلے گوروں کے غلام تھے اور اب کالوں کے غلام ہیں لہذا کونسی آزادی اور کیسی آزادی ؟ گوروں میں کم از کم اتنا انصاف تھا کہ وہ ہندوستان کا نظام اچھے طریقے سے چلا رہے تھے ۔ گوروں نے ہمیں ریل کا نظام دیا جس کو آج ہم تباہ کرنے کے درپے ہیں ۔ انہوں نے ہمیں ٹیلیگراف کا نظام دیا ۔ انہوں نے ہمیں ایک اعلی قسم کا نہری نظام دیا جس کی وجہ سے آج ہماری زراعت چل رہی ہے ۔

اسی طرح گوروں نے باوجود اس کے کہ ہم انکے غلام تھے ہمیں بہت کچھ دیا لیکن پھر بھی ہم ان سے آذادی چاہتے تھے کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا دیس ہے اس لیے اس پر حکمرانی کرنے کا حق بھی ہمیں کو ہے ہزاروں میل دور سے یہاں آکر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون ہوتے ہیں ۔ اور پھر ایک طویل جدو جہد کے بعد وہ وقت آیا جب 14 اور 15 اگست کو بر صغیر میں دو آذاد مملکتیں وجود میں آئیں ایک بھارت اور دوسری پاکستان ۔ پاکستان بنانے والوں کے دلوں میں اس ملک کو ترقی دینے کے جو خواب تھے افسوس وہ خواب ہی رہے اور اس کی تعبیر آج تک ہم نے نہیں دیکھی ۔ آج حالت یہ ہے کہ وہ مخصوص طبقہ جس کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا ان کی عیاشیوں کی وجہ سے ہمارا ملک تباہی و بربادی کا شکار ہو گیا ہے اور آج ہمارا ملک جو برطانیہ کے تسلط سے آزاد ہوا تھا عالمی مالیاتی اداروں کا غلام بن گیا ہے ۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم کیا سوچ کر ہر سال یوم آزادی پر جشن بناتے ہیں؟ ہماری تو حالت یہ ہے کہ جب ہمارے حکمران ملک میں کوئی بھی معاشی پالیسی بناتے ہیں تو اس کے لیے پارلمینٹ کی جگہ آئی ایم ایف سے اجازت طلب کرتے ہیں اور ذیادہ تر آئی ایم ایف شان بے نیازی سے غریب عوام کو ریلیف دینے سے انکار کر دیتی ہے ۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے اور ہر چیز پر نارواء ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور جب عوام اس پر احتجاج کرتے ہیں تو حکمران کہتے ہیں کہ کیا کریں ہمارے تو ہاتھ بندھے ہوئے ہیں آئی ایم ایف اجازت نہیں دے رہی ۔

تو کیا ایسی قوم کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ہر سال یوم آزادی پر بھنگڑے ڈالے اور طوفان بد تمیزی مچائے ؟ اس وقت یہ کالم لکھتے ہوئے 13 اگست کی رات ہے اور ہر طرف سے پٹاخے پھوٹنے کی آوازیں آر رہی ہیں، آتش بازی ہو رہی ہے اور لوگ قومی پرچم لہرا کر باہر سڑکوں پر گھوم رہے ہیں کیونکہ وہ سب یہ سب کچھ کرنے میں پوری طرح سے آذاد ہیں لیکن ایک ، دو دن بعد جب یہ طوفان تھم جائے گا تو پھر انہیں دوبارہ پتہ چلے گا کہ وہ تو اب بھی غلام ہیں لیکن اب ان کے آقا بدل گئے ہیں پہلے ایک ملک کے وہ غلام تھے اب آئی ایم ایف کے غلام ہیں اور یہ غلامی برطانیہ کی غلامی سے زیادہ اذیت ناک ہے مگر کیا کریں شدید حبس کے اس ماحول کچھ نہ کچھ تو جشن ہونا چاہیے کیونکہ
“تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے”

تحریر: داؤد درانی

مزید خبریں