جامشورو(روشن پاکستان نیوز) مانجھند تحصیل کے علاقے کھاسائی میں ایلیمنٹری اسکول کی تعمیر میں مبینہ رکاوٹیں، بچوں اور اساتذہ کو ہراساں کرنے اور اسکول بند کرانے کی کوششوں کے خلاف پرنسپل بینظیر راجڑ نے عدالت سے رجوع کرلیا۔
بینظیر راجڑ نے سپریم کورٹ کے وکیل آغا کاشف حسین کے توسط سے جامشورو کی عدالت میں درخواست دائر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول میں تقریباً 250 بچے زیرِ تعلیم ہیں، تاہم بعض بااثر افراد مبینہ طور پر اسکول کی تعمیر اور تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
ایرانی صدر کی سپریم لیڈر سے 7 گھنٹے طویل ملاقات
پرنسپل نے الزام عائد کیا کہ اسکول میں توڑ پھوڑ، سولر سسٹم اور ریکارڈ لے جانے کے واقعات پیش آئے جبکہ انہیں مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق خوف و ہراس کے باعث کئی بچوں نے اسکول آنا چھوڑ دیا ہے۔
بینظیر راجڑ کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی جامشورو کو بھی درخواستیں دی جا چکی ہیں، تاہم خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اسکول، بچوں اور اساتذہ کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے مبینہ واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ بچوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔











