اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستان تحریک صوبہ ہزارہ کےرہنماؤں نے کہا کہ پختونوں سے ہماری کوئی دشمنی نہیں، ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ہزارہ کے عوام کو ان کا آئینی اور جمہوری حق دیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماضی میں ایسے قوانین اور سیاسی حکمتِ عملیاں اختیار کی گئیں جن کا مقصد ہزارہ کے عوام کی تحریک کو کمزور کرنا تھا، جس میں مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں کا بھی کردار رہا۔انہوں نے کہا کہ اگر صوبہ ہزارہ کے قیام کے حوالے سے سوشل میڈیا یا عوامی سطح پر رائے شماری کرائی جائے تو 90 فیصد سے زائد عوام نئے صوبے کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے رہنما واقعی مخلص ہیں تو وہ پارلیمنٹ میں صوبہ ہزارہ کے قیام کی حمایت کریں۔ انہوں نے کیپٹن صفدر، مرتضیٰ جاوید عباسی اور سردار محمد یوسف سمیت دیگر رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی جماعتی قیادت کو اس معاملے پر آمادہ کریں، کیونکہ محض پریس کانفرنسوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان تحریک صوبہ ہزارہ کے چیئرمین سردار گوہر زمان کڑلال ، صدر سلطان العارفین جدون، نائب صدر سردار یاسر خان کڑلال ، جنرل سیکرٹری تحصیل لورہ سردار سجاد احمد ہزاروی، سردار ممریز کڑلال، صدر راولپنڈی اسلام آباد سبحان قریشی، سردار غلام مصطفیٰ کڑلال،سردار جاوید بابا کڑلال، صدر تحصیل لورہ پیر بابر خان منہاس و دیگررہنماؤں کا کہنا تھا کہ بابا حیدر زمان نے ہزارہ تحریک شروع کی تھی ہزارے وال کے تمام لوگوں نے بابا حیدر زمان کی قیادت میں مسلم لیگ میں شمولیت کی تھی اور کے پی کے نامنظور کا نعرہ لگایا گیا تھا جب ہزارے کا نام کے پی کے میں شامل ہوا تو تحریک ہزارہ سے مشاورت نہیں کی گئی تھی بابا حیدر زمان اپنے مشن پر ڈٹے رہے اور آج ہم بھی اس مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں پاکستان میں تمام تحریکوں سے زیادہ صوبہ ہزارہ نے قربانیاں دیں صوبہ ہزارہ تحریک کو مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بابا حیدر زمان کے انتقال کے بعد تحریک کو نقصان پہنچا اور بعض عناصر نے تحریک کے نام پر عوام کو گمراہ کیا۔سردار یوسف نے کبھی صوبہ ہزارہ کا تحفظ کیا کبھی کوئی ریلیاں نکالیں، وزیراعظم یا کسی وزارت سے بات کی ، مسلم لیگ ن کی حکومت ہے آپ نے ہزارہ کے لیے کیا کیا، ہزارہ میں معدنیات کی کمی نہیں ہےہزارہ سے اربوں روپے آمدن ہے ہزارہ صوبے پر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت مسلط ہے،مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے پورے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے،چین کی بنائی ہوئی موٹر وے کو بار بار احسان کے طور پر پیش کرتے ہیں، ہزارے وال کے نوجوانوں کو نوکریاں نہیں ملتیں تمام نوجوان باہر ملک دھکے کھا رہے ہیں، سردار یوسف کو تحریک ہزارہ میں شہید لوگوں کے نام تک نہیں پتہ یہ صرف الیکشن میں ووٹ لینے کے لیے ہزارہ کا نام استعمال کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ماضی میں کارکنوں پر تشدد، گرفتاریاں اور شہادتیں ہوئیں، لیکن اب تحریک کو دوبارہ منظم کر لیا گیا ہے اور عوام بڑی تعداد میں ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے ایوبیہ چیئر لفٹ گزشتہ چھ برس سے بند ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی بندش سے مقامی سیاحت اور ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر نئے صوبے کے قیام میں سنجیدہ نہیں تو کم از کم عوامی فلاح کے منصوبے بحال کیے جائیں تاکہ علاقے کی معیشت کو سہارا مل سکے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ ہزارہ ڈویژن کے منتخب نمائندے عوام کے مسائل مؤثر انداز میں پارلیمنٹ میں نہیں اٹھا رہے اور زیادہ تر اپنی جماعتی قیادت کے فیصلوں کے پابند ہیں۔ ان کے مطابق جب تک ہزارہ کے عوام کو اپنی مؤثر سیاسی نمائندگی نہیں ملے گی، علاقے کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ کے عوام نے قیامِ پاکستان میں تاریخی کردار ادا کیا اور آج بھی پاکستان سے اپنی غیر متزلزل وابستگی پر فخر کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک سمیت اہم قومی منصوبوں میں ہزارہ کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہم ہے، اس لیے علاقے کے عوام کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے صوبہ ہزارہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔











