اتوار,  02  اگست 2026ء
سحر کامران کا گندم بحران پر حکومت سے کسان دوست پالیسی اپنانے کا مطالبہ
گندم بحران میں کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، ناکامیوں کا ازالہ ضروری ہے: سحر کامران

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ اعداد و شمار اور سرکاری ریکارڈ گندم بحران کی ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت کے دور میں فصل تیار ہونے کے باوجود 35 لاکھ ٹن سے زائد گندم درآمد کی گئی، جس میں بعد ازاں بڑی مقدار کو ناقص اور کیڑے سے متاثرہ قرار دیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ گندم درآمد سے مقامی مارکیٹ متاثر ہوئی، سرکاری خریداری محدود کی گئی اور کسانوں کو اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے کسانوں کی آمدنی، زرعی معیشت اور مستقبل کی پائیداری کو نقصان پہنچایا۔

اسلام آباد: آبنائے ہرمز کشیدگی، پاکستان کی ثالثی امن کی نئی امید قرار: سحرکامران

سحر کامران نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ نے بھی ناقص درآمدی گندم کا اعتراف کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعد کے سال میں بھی سرکاری خریداری، بالخصوص پاسکو کے کردار میں کمی آئی جبکہ کسانوں کو قیمتوں کے تحفظ سے محروم رکھا گیا۔

رکن قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے تحفظ کے لیے مستقل اور کسان دوست پالیسی اپنائی جائے تاکہ گندم بحران جیسے مسائل دوبارہ پیدا نہ ہوں۔

مزید خبریں