جمعه,  24 جولائی 2026ء
ایران امن کے مواقع ضائع نا کرے
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے

اسرائیل جو چاہتا تھا اب وہی کچھ ہونے جا رہا ہے ۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے سے لڑ کر کمزور ہوں تاکہ اسرائیل کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل سکے ۔ جب امریکہ اور ایران کی لڑائی شروع ہوئی تو امید اس بات کی تھی کہ امریکہ بہت جلد ایران کو شکست دے کر وہاں رجیم چینج کا مقصد امریکہ کا پورا ہو جائے گا ۔

لیکن خلاف توقع ایران نے ڈٹ کر امریکہ کا مقابلہ کیا دوسری طرف نیٹو ممالک نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا اور ایران کو سب سے بڑی کامیابی یہ ملی کہ اس نے دنیا کی معاشی شہ رگ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بلند ہونے لگیں اور مہنگائی کا طوفان آنے لگا ۔

اس جنگ سے عالمی معیشت کو تو نقصان پہنچ رہا تھا لیکن پاکستان کو فکر اس بات کی تھی کہ اگر ایران کو شکست ہوگئی اور وہاں امریکہ و اسرائیل نواز حکومت بن گئی تو پاکستان کی سالمیت شدید خطرے میں پڑ جائیگی ۔

یہ پاکستان کی بڑی خوش قسمتی تھی کہ ایران کے تیور دیکھ کر امریکہ جیسی طاقت بھی کسی طریقے سے جنگ بندی اور صلح کی طرف دیکھنے لگی اور پاکستان نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ اور ایران کے بیچ صلح کی کوششیں شروع کر دیں ۔ دوسری اچھی بات یہ تھی کہ اس وقت چونکہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر ٹرمپ کی good books میں ہیں لہذا ان دونوں نے انتھک کوششوں کے بعد امریکہ اور ایران کو جنگ بندی اور صلح کے لیے مذکرات پر آمادہ کر لیا ۔

پاکستان کی یہ کامیابی کسی بھی صورت میں اسرائیل کو منظور نہیں تھی لیکن خلاف توقع اس معاملے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی قیادت کے بیچ تلخیاں بھی آئیں لیکن پاکستان اپنے مقصد میں کامیاب ہونے لگا ۔

دوسری طرف یہ ایران کے لیے بھی ایک سنہری موقع تھا کیونکہ امریکہ بتدریج اس بات پر آمادہ ہو رہا تھا کہ ایران سے اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں اور اسکے بیرون ملک اربوں ڈالرز کے منجمد اثاثے ریلیز کیے جائیں لیکن بد قسمتی سے ایران نےاس سنہری موقع کو ضائع کرنے کی ٹھان لی ہے اور جب جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سمندری جہازوں نے آبنائے ہرمز پار کرنے کی کوشش کی تو ایران نے یہ بہانہ بنا کر کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والا ہر جہاز اسے ٹیکس ادا کرے گا دو جہازوں پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے امریکہ نے بھی جنگ بندی توڑ کر ایران پر حملے شروع کر دیے ۔

اسرائیل اپنی کوشش میں آخر کار کامیاب ہوگیا کیونکہ ایران نے جوابی کاروائی کے طور پر یہ بہانہ بنا کر عرب ممالک پر حملے شروع کر دیے کہ یہاں امریکی فوجی اڈے ہیں ۔ چونکہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے اس لیے اگر ایران نے سعودی عرب ہر حملہ کیا تو پاکستان کو اس کا جواب بہر حال دینا پڑے گا اور یوں اس خطے میں اسلامی ممالک آپس میں بر سر پیکار ہوکر یہودی ایجنڈے کو کامیاب بنائیں گے ۔ اسی طرح اگر امریکہ نے اپنی پوری فوجی طاقت کے ساتھ ایران پر حملے کیے تو ایران کے لیکن اپنا بچاؤ ممکن نہیں ہوگا اور پھر رجیم چینج کے نتیجے میں اسرائیل نواز حکومت ایران میں بر سر اقتدار آکر پاکستان کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی کر دیگی۔

پاکستان ایران کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ ایران اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ تنہاء امریکہ کو شکست دے سکتا ہے لیکن یہ ممکن نہیں ۔ اب بھی امریکہ اس کوشش میں ہے کہ بات چیت دوبارہ شروع ہو جائے لیکن ایران اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے ۔ پاکستان اب بھی ان دونوں ممالک کے بیچ امن کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن دکھائی یہ دے رہا ہے کہ ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب پوری طرح سے ایک پیج پر نہیں ہیں ۔ ایرانی حکومت تو جنگ بندی اور بات چیت کے لیے قدرے آمادہ ہے لیکن پاسداران انقلاب اس معاملے میں کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں ۔

ایران عرصہ دراز سے معاشی اور اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے جس کی وجہ سے ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے ۔ ایران میں مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے اور اس جنگ سے قبل ایران میں اس حوالے سے حکومت کے خلاف احتجاج بھی شروع ہوا تھا اور یہ احتجاج کامیاب بھی ہو سکتا تھا لیکن امریکہ اور اسرائیل نے جب کھل کر احتجاجیوں کی حمایت کی تو ایرانی حکومت نے پوری قوت سے اس احتجاج کو کچل ڈالا جس میں کسی سو لوگوں کی ہلاکت کی خبریں آئیں ۔

اب بھی اگر ایران اپنی ضد جو چھوڑ کر جنگ بندی اور مذاکرات پر آمادہ ہو جائے تو وہ دوبارہ عالمی سطح پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد تیل بیچ کر اور تجارت کے زریعے بہت جلد اپنی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے ورنہ اگر آبنائے ہرمز اسی طرح بند رہنے سے تیل کی قیمتیں بڑھتی گئیں تو ایران یورپی اور دیگر ممالک کی ہمدردیاں کھو دے گا جو ایران کی سالمیت کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے ۔

داؤد درانی

مزید خبریں