اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) جمعیت علماء اسلام کے راہنما مولانا فضل الرحمن ایک منجھے ہوئے اور زیرک سیاستدان ہیں مگر ان کی طرف سے کیا گیا الفاظ کا چناؤ اور لہجہ خواہ وہ شہداء کے حوالے سے ہو یا کسی مسلک کے اعتقادات کے حوالے سے ہو، درست نہیں۔ ہم انہیں مشورہ دیں گی کہ بجائے اپنے پہلے بیان کو تقویت پہنچانے کے اگر وہ اپنے الفاظ کی سختی پر رجوع کر لیں تو یہ ناخوشگوار فضا کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ہم انہیں یہ بھی مشورہ دیں گے کہ عزاداری کے حوالے سے ان کا بیان فرقہ وارانہ منافرت کا سبب بن سکتا ہے لہذا اس پر بھی رجوع فرمائیں۔ پیر صاحب نے مزید کہا کہ موجودہ جغرافیائی اور ملکی صورتحال میں ہمارا ملک فرقہ وارانہ منافرت کا متحمل نہیں ہو سکتا لہذا خواہ سیاست دان ہوں یا مذہبی سکالرز اپنے بیانات میں شائستگی اور الفاظ کے چناؤ کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ ایسے بیانات ہماری جانب سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کیے گئے اقدامات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔











