هفته,  18 جولائی 2026ء
کینیڈا نے پاکستانیوں کے لیے اسپانسر شپ پروگرام معطل کردیا

اوٹاوا (روشن پاکستان نیوز)  کینیڈا نے پاکستانیوں سمیت تمام شہریوں کے لیے ‘والدین اور گرینڈ پیرنٹس اسپانسرشپ پروگرام’ عارضی طور پر معطل کردیا۔

کینیڈین امیگریشن، رفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ نے ‘پیرنٹس اینڈ گرینڈ پیرنٹس پروگرام’ کے تحت نئے درخواست گزاروں کے داخلے کو تا حکمِ ثانی عارضی طور پر روک دیا ہے۔

اس فیصلے کا اطلاق پاکستانی نژاد کینیڈین شہریوں اور مستقل رہائشیوں سمیت دنیا بھر کے تمام درخواست گزاروں پر ہوگا۔

کینیڈین امیگریشن حکام کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد پروگرام کے تحت بڑھتی ہوئی مانگ کو کنٹرول کرنا اور درخواستوں کی پروسیسنگ کے شدید دباؤ کو کم کرنا ہے۔ تاہم، پہلے سے جمع کرائی گئی پرانی درخواستوں پر کام معمول کے مطابق جاری رہے گا۔

آفیشل نوٹس میں کہا گیا کہ فی الحال نئے ‘انٹرسٹ ٹو اسپانسر’ فارم قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی ممکنہ اسپانسرز کو درخواست دینے کی دعوت دی جائے گی۔

محکمے کا کہنا ہے کہ ان کی تمام تر توجہ اب پہلے سے موجود درخواستوں کو نمٹانے پر مرکوز ہے۔ امیگریشن حکام نے ہدف مقرر کیا ہے کہ سال 2026 میں اس پروگرام کے تحت پہلے سے زیرِ التوا کیسز میں سے 15,000 افراد کو کینیڈا کی مستقل رہائشیکی منظوری دی جائے گی۔

پیرنٹس اینڈ گرینڈ پیرنٹس پروگرام کیا ہے؟

یہ کینیڈا کا ایک مقبول امیگریشن پروگرام ہے جو کینیڈین شہریوں اور وہاں کے مستقل رہائشیوں کو یہ قانونی حق دیتا ہے کہ وہ اپنے والدین، دادا دادی، یا نانا نانی کو کینیڈا بلا کر وہاں کی مستقل رہائش دلوا سکیں۔

عمرہ ویزہ فراڈ کا مرکزی ملزم منظرِ عام پر، زائرین سے لاکھوں روپے بٹورنے کا الزام

کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئے پروگرام کی معطلی کے باوجود، وہ کینیڈین خاندان جو اپنے بزرگوں کو اپنے پاس بلانا چاہتے ہیں، وہ اب بھی سپر ویزا کا متبادل آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔

یہ ویزا بزرگوں کو مستقل رہائش تو فراہم نہیں کرتا، لیکن انہیں طویل مدت کے لیے کینیڈا میں قیام اور اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت دیتا ہے۔

امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں ہاؤسنگ اور انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث امیگریشن قوانین کو بتدریج سخت کیا جا رہا ہے، اور یہ حالیہ معطلی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مزید خبریں