هفته,  18 جولائی 2026ء
پاکستان نے ایک سال میں 16 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض لیے
پاکستان نے ایک سال میں 16 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرض لیے

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز): حکومتِ پاکستان نے مالی سال 26-2025 کے دوران 16 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی مالی معاونت حاصل کی ہے، تاہم اس حاصل کردہ رقم کا 79 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوا ہے۔

اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں حقائق سامنے آئے ہیں، رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ملنے والی اس مجموعی بیرونی مالی معاونت میں قرضوں کا حصہ تقریباً 99 فیصد رہا جبکہ گرانٹس نہ ہونے کے برابر رہیں۔

مالی سال کے دوران پاکستان کو گرانٹس کی صورت میں صرف 149.53 ملین ڈالر موصول ہوئے۔ حاصل کردہ مجموعی بیرونی معاونت میں سے 12.7 ارب ڈالر پراجیکٹ فنانسنگ اور بجٹ سپورٹ کے لیے مختص ہوئے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے محض 3 ارب 43 کروڑ ڈالر مختص کیے جا سکے۔

اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ میں بیرونی ذرائع کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے 5.03 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل ہوئی۔

یو اے ای میں 20 جولائی سے پاکستانیوں کیلئے صرف ای پاسپورٹ جاری ہوگا

اس کے علاوہ، سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر ٹائم ڈپازٹ کی صورت میں فراہم کیے گئے جبکہ حکومت نے نیشنل پرائز بانڈز کے ذریعے 3.05 ارب ڈالر حاصل کیے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران کمرشل بینکوں سے 1.90 ارب ڈالر کا قرض لیا، جبکہ دوطرفہ شراکت دار ممالک سے مجموعی طور پر 1.356 ارب ڈالر کی مالی معاونت موصول ہوئی۔

اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بجٹ سپورٹ کی مد میں 420 ملین ڈالر کا قرض فراہم کیا، اور چینی بینک کی طرف سے بجٹ سپورٹ کے لیے 1.7 ارب ڈالر حاصل کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چین کی معاونت سے چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ 5 (چشمہ-5) کے لیے 392.82 ملین ڈالر کا قرض بھی موصول ہوا ہے۔

مزید خبریں