اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) عالمی مارکیٹ میں ہلچل اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار پر غور کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں جاری اتار چڑھاؤ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے تناظر میں وزارتِ توانائی نے پٹرولیم کی قیمتوں کے تعین کے نظام کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ صدارت پٹرولیم پرائسنگ سسٹم کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا، جس میں عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے پیشِ نظر پٹرولیم سیکٹر میں شفافیت اور توانائی کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش کی وجہ سے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، جس کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیا
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اوگرا فوری اقدام کے طور پر روزانہ کی بنیاد پر اپنی ویب سائٹ پر بین الاقوامی ‘پلیٹس’ پرائسنگ ڈیٹا شائع کرے گا تاکہ عوام پٹرولیم قیمتوں کے تعین کے معیار کو خود دیکھ سکے۔
اس کے علاوہ نو تشکیل شدہ ‘پٹرولیم پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ’ کو مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے تحت چلانے اور تیل کی سپلائی چین کو ڈیجیٹلائز کرنے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ شفافیت برقرار رہے اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ ہو سکے۔
وفاقی وزیرِ پٹرولیم نے ہدایت کی کہ کمیٹی کا اگلا اجلاس حتمی ہوگا، جس کے بعد یہ سفارشات حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کر دی جائیں گی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین اوگرا نبیل اعوان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











