راولپنڈی(کرائم رپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے مشہور ماجد ستی قتل کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر سمیت تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنا دی، جبکہ ایک ملزم وسیم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔
عدالت نے تھانہ صادق آباد میں درج ماجد ستی قتل مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔ فیصلے کے مطابق جرم ثابت ہونے پر فرخ کھوکھر سمیت تین ملزمان کو عمر قید کی سزا دی گئی۔
فیصلہ سنائے جانے کے فوراً بعد ضمانت پر موجود مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر کے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔ عدالت نے سخت سیکیورٹی میں انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر دو سزا یافتہ ملزمان پہلے ہی جیل سے عدالت لائے گئے تھے۔
اسلام آباد پولیس کی کارروائی، مدرسے سے لاپتہ طالب علم خیبر پختونخوا سے بازیاب
فیصلے کے موقع پر مقتول ماجد ستی کے اہل خانہ اور لواحقین کی بڑی تعداد جوڈیشل کمپلیکس میں موجود تھی۔ دوسری جانب فرخ کھوکھر اور دیگر ملزمان کے حامی بھی بڑی تعداد میں عدالت پہنچے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔
امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جوڈیشل کمپلیکس میں مسلح افراد اور گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد رہی، جبکہ آنے والے تمام افراد کی سخت تلاشی لی گئی۔
یاد رہے کہ ماجد ستی قتل کا مقدمہ 8 اگست 2022 کو تھانہ صادق آباد، راولپنڈی میں درج کیا گیا تھا۔











