اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) آئی فون مارکیٹ میں دستیاب بہترین اسمارٹ فونز میں سے ایک ہے مگر مہنگی قیمتوں کی وجہ سے یہ ہر ایک کے بجٹ میں نہیں آتا اسی لیے لوگ استعمال شدہ آئی فون کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ ایک پرانا یا استعمال شدہ آئی فون بھی کئی درمیانے درجے کے اینڈرائیڈ فونز سے بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے، لیکن اسے خریدنے کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ آپ کو شاید مستقبل میں مزید آئی او ایس اپ ڈیٹس نہ ملیں، فون کا ہارڈویئر پرانا ہو چکا ہو، اور سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ پر مکمل بھروسہ کرنا ہمیشہ خطرے کا کام ہوتا ہے۔
یہ تمام عوامل بظاہر سستے ملنے والے فون کو طویل المدتی بنیادوں پر کافی مہنگا بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ کو ایسا فون مل جائے جس میں جعلی پرزے لگے ہوں، تو اصلی پرزے لگوانے پر آپ کا مزید خرچہ ہو سکتا ہے۔ ایپل نے اب نئی ڈیوائسز میں جعلی پرزوں کا استعمال تقریباً ناممکن بنا دیا ہے کیونکہ ہر اندرونی پرزے کو اب ایپل کے سسٹم سے تصدیق کروانا پڑتا ہے۔
اس لیے اگر کوئی پوچھے کہ کم قیمت میں کون سا آئی فون لینا چاہیے، تو ماہرین کا مشورہ یہی ہوتا ہے کہ اپنے بجٹ کے مطابق جو سب سے نیا ماڈل آپ خرید سکتے ہیں، وہی لیں۔
آئی او ایس اپ ڈیٹس کی کمی
اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ سال 2023 میں لانچ ہونے والا آئی فون 15 خریدنا ایک زبردست فیصلہ ہوگا، تو جان لیں کہ آئی فون 15 وہ فون ہے جس میں ‘ایپل انٹیلی جنس’ کی سپورٹ موجود نہیں، کیونکہ اس کے لیے کم از کم آئی فون 15 پرو ماڈل درکار ہے۔ ایپل کی موجودہ اور مستقبل کی تمام تر توجہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فیچرز پر ہے، جو پرانے فونز پر کام نہیں کریں گے۔
اس کے علاوہ، یہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایپل کب کس پرانی ڈیوائس کی سپورٹ ختم کر دے۔ اگرچہ ایپل عموماً 7سال تک سافٹ ویئر اپ ڈیٹس دیتا ہے، لیکن حال ہی میں ایپل نے محض 4 سال پرانی سمارٹ واچز کی اپ ڈیٹ سپورٹ بھی ختم کر دی ہے۔
پرانا ہارڈویئر
استعمال شدہ آئی فون کا ایک اور بڑا نقصان اس کا پرانا ہارڈویئر ہے۔ ایپل ہر نئے ماڈل کے ساتھ بیٹری کی لائف اور پروسیسر کو زیادہ طاقتور بناتا ہے۔ مثلاً آئی فون 17 پرو میں فون کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے نیا سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ پرانے ماڈل خریدنے پر آپ کئی نئے فیچرز سے محروم رہ سکتے ہیں۔ آئی فون 16 اور اس سے پرانے ماڈلز میں ‘آلویز آن ڈسپلے’ یا ‘پرو موشن’ نہیں ہیں، آئی فون 15 میں نیا کیمرہ کنٹرول بٹن نہیں ہے، اور آئی فون 14 میں ایکشن بٹن موجود نہیں ہے۔
پرانے فونز میں سٹوریج (میموری) کا بھی بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ آئی فون 17 اب 256 جی بی سے شروع ہوتا ہے، جبکہ 2022 کے ماڈلز (جیسے آئی فون ایس ای 3 یا آئی فون 12) میں صرف 64 جی بی سٹوریج ہو سکتی ہے، جو آج کے دور کے حساب سے بالکل ناکافی ہے۔
آئی فونز میں بیٹری آئیکون کے نیچے یہ لائن کیوں نظر آتی ہے؟
وارنٹی اور ایپل کیئر پلس کی عدم موجودگی
ایپل اپنے نئے فونز پر ایک سال کی مفت وارنٹی دیتا ہے۔ لیکن جب آپ ایک استعمال شدہ آئی فون خریدتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ فون ایک سال سے زیادہ پرانا ہو اور اس کی وارنٹی ختم ہو چکی ہو۔
بغیر وارنٹی کے فون کا مطلب یہ ہے کہ اگر فون کی سکرین ٹوٹ جائے، پچھلا شیشہ ٹوٹ جائے، یا بیٹری خراب ہو جائے تو آپ کو مرمت پر ایک بھاری رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ آئی فون کے اصلی پرزے بے حد مہنگے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آئی فون 17 پرو میکس کی بیٹری تبدیل کروانے کا خرچہ تقریباً 33,100 روپے اور اسکرین کا 105,450 روپے سے شروع ہوتا ہے، اور کچھ بڑی خرابیوں کی صورت میں یہ مرمتی خرچہ 222,300 روپے تک بھی جا سکتا ہے، جو کہ ایک بہت خطیر رقم بنتی ہے۔
ناقابلِ اعتبار سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ
لوگ اکثر سستے فون کی تلاش میں مقامی آن لائن پلیٹ فارمز کا رخ کرتے ہیں۔ یہیں پر دھوکہ دہی کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
تصویروں میں فون کی ظاہری خامیاں یا خراشیں پہچاننا بہت مشکل ہے۔ اس کے علاوہ یہ جاننا بھی ناممکن ہے کہ فون کے اندر کے پرزے اصلی ہیں یا نہیں، یا کہیں فون کے اندر آپ کا ڈیٹا چرانے کے لیے کوئی وائرس تو نہیں۔ خریدنے سے پہلے فون کا سیریل نمبر اسکرین پر چیک کرنا بہت ضروری ہے تاکہ آپ جان سکیں کہ فون چوری کا تو نہیں اور اس میں کون سی اپ ڈیٹس موجود ہیں۔ بغیر جانچ پڑتال کے فون لینا پرانی گاڑی لینے جیسا ہے، جو بعد میں سر درد بن سکتا ہے۔
بیٹری کے مسائل
استعمال شدہ آئی فون خریدنے کا سب سے عام اور بڑا نقصان اس کی بیٹری کی صحت کا کم ہونا ہے۔ عام طور پر ایک سال کے استعمال کے بعد بیٹری کی صلاحیت میں 10 فیصد تک کمی آجاتی ہے۔ اگر آپ دو یا تین سال پرانا فون لے رہے ہیں تو اس کی بیٹری یقیناً بدلنے والی ہو چکی ہوگی۔
نئی بیٹری لگوانے کی قیمتیں آئی فون 11 کے لیے تقریباً 24,750 روپے سے لے کر نئے ماڈلز کے لیے 33,100 روپے تک ہو سکتی ہیں (مقامی مارکیٹ میں ڈیوٹی اور ٹیکس کے باعث یہ قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں)۔ اگر آپ بیٹری تبدیل نہیں کرواتے تو آپ کو دن میں کئی بار فون چارج کرنا پڑے گا یا ہر وقت پاور بینک ساتھ رکھنا ہوگا۔ بیٹری کمزور ہونے کی وجہ سے فون کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے اور کئی بار فون چارجنگ ختم ہونے سے پہلے ہی اچانک بند ہو جاتا ہے۔











