اتوار,  05 جولائی 2026ء
لوٹ مار کا بازار گرم

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک ایسا سسٹم ہے جس کے تحت مستحق خواتین کو ہر تین یا چار ماہ بعد باقاعدگی سے مالی امداد اور بچوں کا وظیفہ دیا جاتا ہے لیکن اس سسٹم میں استعمال ہونے والی ڈیوائسز کے ٹھیکے مختلف کمپنیوں کے پاس ہوتے ہیں اگر آپ کسی مخصوص کمپنی کی ڈیوائس لینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کم از کم دو سے ڈھائی لاکھ روپے بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ انویسٹمنٹ کرنی پڑتی ہے اس کے ساتھ مختلف ٹارگٹس جیسے سم ایکٹیو وغیرہ بھی پورے کرنے ہوتے ہیں بعض دیگر کمپنیوں کی ڈیوائس حاصل کرنے کے لیے کئی افراد مل کر لاکھوں روپے کی انویسٹمنٹ کرتے ہیں تب جا کر یہ سسٹم چلایا جاتا ہے جب ادائیگیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو مستحق خواتین کے کارڈ سے فی ٹرانزیکشن ایک ہزار ڈیڑھ ہزار یا دو ہزار روپے تک وصول کیے جاتے ہیں اگر روزانہ 100 کارڈ نکالے ہوں تو یہ رقم لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے اور اگر 500 کارڈ ہوں تو روزانہ کی آمدن کئی لاکھ روپے بن جاتی ہے ادائیگیوں کا یہ سلسلہ تقریباً 15 سے 20 تک جاری رہتا ہے جس کے دوران ہزاروں کارڈز کے ذریعے کروڑوں روپے کا لین دین ہوتا ہے اس رقم کا ایک حصہ مختلف بااثر افراد یا متعلقہ تھانہ میڈیا وغیرہ میں یا اثر و رسوخ رکھنے والوں تک پہنچایا جاتا ہے جبکہ باقی رقم ڈیوائس آپریٹرز کے پاس بچ جاتی ہے اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس سسٹم کے ذریعے بعض لوگ مبینہ طور پر کروڑوں روپے کرپشن کر کے کماتے ہیں مگر ان سے کوئی احتساب نہیں کیا جاتا اور جب بچوں کا وظیفہ جاری ہوتا ہے تو اکثر خواتین کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان کے بچوں کے نام پر کتنی رقم آئی ہے صرف فنگر پرنٹ لے کر ادائیگی کر دی جاتی ہے لیکن انہیں مکمل تفصیلات نہیں دکھائی جاتیں کہ ان کے اکاؤنٹ میں کتنی رقم کس مد میں آئی ہے بعض افراد سود پر رقم لے کر یا ادھار رقم کا انتظام کرکے اس کاروبار میں داخل ہوتے ہیں سورس کے مطابق ڈیوائس سسٹم میں بہت بڑے پیمانے پر بدعنوانی موجود ہے جو عام لوگوں کے تصور سوچ سے بھی کہیں زیادہ سنگین بتائی جاتی ہے

کائنات چودھری

صادق آباد

مزید خبریں