هفته,  04 جولائی 2026ء
برطانیہ کا روچڈیل جنسی جرائم گینگ کے مرکزی مجرم شبیر احمد کی پاکستان حوالگی پر غور، اسلام آباد سے سفارتی رابطے شروع

لندن (روشن پاکستان نیوز ) برطانوی حکومت نے روچڈیل میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مقدمے میں سزا یافتہ گینگ کے مرکزی مجرم شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کے امکان پر اسلام آباد کے ساتھ سفارتی رابطے شروع کر دیے ہیں۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی مجرموں کی ملک بدری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، تاہم اس معاملے میں قانونی اور سفارتی رکاوٹیں موجود ہیں۔

73 سالہ شبیر احمد کو 2012 میں کم عمر لڑکیوں سے زیادتی اور متعدد جنسی جرائم کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق وہ روچڈیل گینگ کے ان نو افراد میں شامل تھا جنہوں نے 12 برس تک کی لڑکیوں کو نشانہ بنایا، انہیں نشہ آور اشیا اور شراب دے کر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسے 19 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم وہ تقریباً 14 برس جیل میں گزارنے کے بعد رواں ہفتے رہا ہوا۔

برطانوی حکومت نے شبیر احمد کی برطانوی شہریت ختم کر دی تھی اور اب وہ صرف پاکستانی شہریت رکھتا ہے، مگر 1971 کے امیگریشن قانون کی ایک شق اس کی فوری ملک بدری میں رکاوٹ بن گئی ہے۔ اس قانون کے تحت ایسے بعض دولتِ مشترکہ کے شہریوں کو ملک بدر نہیں کیا جا سکتا جو 1973 سے قبل برطانیہ پہنچے ہوں اور طویل عرصے سے وہاں مقیم رہے ہوں۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے وزیر داخلہ شبانہ محمود کو کیس کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان کے مطابق اس معاملے پر اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے رابطہ کیا گیا ہے اور حکومت ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ سنگین جرائم میں ملوث غیر ملکی شہریوں کو برطانیہ میں رہنے نہ دیا جائے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے قبولیت اور سفری دستاویزات کی فراہمی اس معاملے کے اہم نکات ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شبیر احمد کی پاکستانی شہریت سے متعلق سابقہ دست برداری یا دستاویزی صورتحال حوالگی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

رہائی کے بعد شبیر احمد کو سخت شرائط کے تحت رکھا گیا ہے۔ اسے چوبیس گھنٹے نگرانی والے رہائشی مرکز میں رکھا گیا ہے، الیکٹرانک نگرانی کے لیے ٹریکنگ آلہ پہنایا گیا ہے، روچڈیل اور اولڈہم جانے پر پابندی عائد ہے اور عمر بھر جنسی مجرموں کے رجسٹر میں شامل رہنا ہوگا۔ لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی پر اسے دوبارہ جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

متاثرہ خواتین نے اس کی رہائی پر خوف اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بروقت معلومات اور تحفظ کی یقین دہانی درکار ہے۔ برطانیہ میں اس معاملے نے ایک بار پھر جنسی جرائم کے مجرموں کی رہائی، امیگریشن قوانین اور ملک بدری کے نظام پر بحث چھیڑ دی ہے۔

مزید خبریں