اسلام آباد (سعد عباسی)وفاقی دارالحکومت میں گراں فروش مافیا قانون سے بے خوف ہو کر آپے سے باہر ہو گیا۔ شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے پٹرول پمپ مالکان نے عوام کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی نہ بخشا مئی کے آخر میں سامنے آنے والے اس ہولناک واقعے نے اسلام آباد پولیس کے امن و امان اور قانون کی بالادستی کے بلند بانگ دعووں کا پول کھول کر رکھ دیا ہے
تفصیلات کے مطابق بحریہ انکلیو روڈ پر قائم نجی پٹرول پمپ (کل ٹیکس) پر اوگرا کے مقرر کردہ سرکاری نرخوں کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ پمپ انتظامیہ اور عملے نے دیدہ دلیری کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ڈیزل کی قیمت خودساختہ طور پر 482 روپے فی لیٹر مقرر کر دی اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ اس سنگین خلاف ورزی کے ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہونے کے باوجود، قانون کے رکھوالے ہی مافیا کے محافظ بن گئے۔ تھانہ بنی گالہ کے ایس ایچ او آصف خان نے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض گرفتار پمپ ملازم کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے رہا کر دیا۔ قانون کی اس کھلی تذلیل اور مجرمانہ غفلت نے ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، گراں فروش پمپ کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے فوری سیل کیا جائے۔مافیا سے مبینہ ڈیل کرنے والے تھانہ بنی گالہ کے ایس ایچ او آصف خان کو عہدے سے معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ انکوائری کا آغاز کیا جائے۔ محکمہ پولیس کا نام بدنام کرنے والوں کو نوکری سے برخاست کیا جائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔











