آبادی، سیکس ایجوکیشن اور ہماری خاموشی: اب سچ کا سامنا کرنے کا وقت آ گیا ہے
میں اور میرا دوست

تحریر / ندیم طاہر

پاکستان اس وقت جن سنگین مسائل سے دوچار ہے، ان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سرفہرست ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی ناکافی سہولیات اور محدود وسائل پہلے ہی عوام کی زندگی کو مشکل بنا رہے ہیں، ایسے میں آبادی میں مسلسل اضافہ آنے والی نسلوں کے لیے مزید بحران پیدا کر سکتا ہے۔۔۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں رکن پنجاب اسمبلی احمد اقبال جوکہ وفاقی وزیر احسن اقبال کے صاحبزادے ہیں انہوں نے آبادی پر کنٹرول، خاندانی منصوبہ بندی اور سیکس ایجوکیشن کے حوالے سے چند اہم نکات اٹھائے، جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کنڈوم، مانع حمل گولیاں اور ماہواری کے پیڈز جیسی بنیادی طبی اشیا اس انداز میں فروخت کی جاتی ہیں جیسے یہ کوئی ممنوعہ چیز ہو۔ اکثر انہیں خاکی لفافوں میں چھپا کر دیا جاتا ہے، گویا ان کا استعمال گناہ یا شرمندگی کی بات ہو۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام اشیا انسانی صحت، صفائی اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق بنیادی ضروریات ہیں۔ ان کے بارے میں جھجک پیدا کرنے سے نہ مسائل ختم ہوتے ہیں اور نہ ہی معاشرہ بہتر بنتا ہے، بلکہ لاعلمی اور غلط فہمیاں بڑھتی ہیں۔

انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس شہروں میں بھی میڈیکل اسٹورز پر کنڈوم، سینیٹری پیڈز اور دیگر طبی مصنوعات عام ادویات کی طرح کھلے عام دستیاب ہوتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صحت اور انسانی ضروریات کو شرمندگی کے پردے میں چھپانے کے بجائے ذمہ داری اور شعور کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم حقیقت سے آنکھیں بند کرکے اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں؟؟؟؟

جواب یقیناً نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس اصطلاح کو اکثر غلط معنی پہنائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اس موضوع پر بحث نہیں کی جاتی اور جس موضوع پر بحث نہ کی جائے وہ حل نہیں کیا جا سکتا۔

اس حوالے سے میرے دوست چوہدری شعیب خان گجر کا ایک تجربہ نہایت قابلِ غور ہے۔ شعیب برطانیہ میں پیدا ہوئے، لیکن ان کا دل ہمیشہ پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے۔ وہ ایک سیاسی و سماجی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والد، ماہرِ معاشیات چوہدری راسب خان، سلطان ٹرسٹ کے ذریعے پاکستان میں غریب اور مستحق افراد کی خدمت میں مصروف ہیں۔ شعیب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ پاکستان کے ایک علاقے کے اسکولوں میں بالغ ہوتی بچیوں تک خواتین کے ذریعے سینیٹری پیڈز پہنچانے کی کوشش کی تاکہ انہیں ماہواری کے دوران بنیادی سہولت میسر آ سکے اور وہ اعتماد کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ لیکن افسوس کہ اس نیک اقدام کو سراہنے کے بجائے مقامی عوامی نمائندے، ایک ایم پی اے، نے یہ اعتراض اٹھایا کہ “آپ بچیوں کو غیر مناسب چیزیں دے رہے ہیں” اور اس کے ساتھ شرم و حیا پر طویل لیکچر بھی دے ڈالا۔

سوال یہ ہے کہ شرم کس بات پر ہونی چاہیے؟؟؟

میری رائے میں حقیقی شرمندگی اس سوچ پر ہونی چاہیے جو خواتین کی صحت اور وقار جیسے بنیادی مسئلے کو سمجھنے کے بجائے اسے ممنوع موضوع بنا دیتی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم خاموشی، جھجک اور فرسودہ رویوں سے آگے بڑھیں اور سائنسی شعور، انسانی ہمدردی اور عملی اقدامات کو فروغ دیں۔

ایک صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جس میں ماہواری، تولیدی صحت اور بنیادی طبی ضروریات پر بات کرنا شرم و حیا کی آڑھ نہیں۔۔
بلکہ ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔

اس تعلیم کی سب سے پہلی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کو بلوغت سے پہلے ماہواری کے بارے میں آگاہ کرے اور اسے بتائے کہ یہ ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے، بیماری یا شرمندگی کی بات نہیں۔
اسی طرح باپ کو اپنے بیٹے کو جسمانی تبدیلیوں، ذمہ داریوں اور اخلاقی اقدار کے بارے میں رہنمائی دینی چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں بے شمار لڑکیاں ایسی ہیں جنہیں پہلی مرتبہ ماہواری آنے پر یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اچانک خون دیکھ کر وہ خوفزدہ ہو جاتی ہیں، بعض تو یہ سمجھتی ہیں کہ شاید انہیں کوئی خطرناک بیماری لاحق ہو گئی ہے۔

یہ خوف اس لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ گھر میں اس موضوع پر کبھی بات ہی نہیں کی جاتی۔
اگر والدین بروقت رہنمائی کریں تو یہی مرحلہ اعتماد اور ذہنی سکون کے ساتھ گزر سکتا ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر ان موضوعات کو “شرم و حیا” کا نام دے کر دفن کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل شرم تو یہ بات ڈسکس نہ کرکے جہالت کو فروغ دینے میں ہے۔

حیا کا مطلب یہ نہیں کہ ضروری معلومات چھپا لی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں مہذب، باوقار اور ذمہ دارانہ انداز میں پیش کیا جائے۔

جب ہم بچوں کو زندگی کے اہم ترین معاملات سے لاعلم رکھتے ہیں تو درحقیقت ہم انہیں مشکلات کے سامنے تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔

بالغ مرد اور عورت کی ازدواجی ضروریات انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، تعلیمی ادارے، علما، ڈاکٹرز، میڈیا اور سب سے بڑھ کر والدین مل کر ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں صحت اور بلوغت سے متعلق گفتگو کو ممنوع نہ سمجھا جائے۔
ممنوع نہ سمجھا جائے۔۔ ممنوع نہ سمجھا جائے۔

اگر ہم آج بھی خاموشی اور جھجک کی روایت پر قائم رہے تو آنے والے برسوں میں آبادی کا دباؤ، معاشی مشکلات اور سماجی مسائل مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ سوچ اپنائیں، سائنسی علم کو قبول کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو وہ آگاہی دیں جس کی انہیں ضرورت ہے۔

علم کبھی بے حیائی نہیں سکھاتا، بلکہ انسان کو ذمہ داری، احتیاط اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہی شعور پاکستان کو ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور خوشحال معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مزید خبریں