بیلفاسٹ میں چاقو حملے کے بعد امیگریشن مخالف احتجاج پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل، متعدد گاڑیاں نذرِ آتش

لندن(روشن پاکستان نیوز) بیلفاسٹ میں ایک چاقو حملے کے بعد امیگریشن مخالف احتجاج اس وقت پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا جب مشتعل افراد نے سڑکوں پر توڑ پھوڑ اور آتش زنی شروع کر دی۔ واقعے کے دوران بسوں اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، جس سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب پولیس نے ایک سوڈانی شہری کو ایک چاقو حملے کے کیس میں نامزد کیا، جس میں ایک شخص شدید زخمی ہوا تھا۔ اس خبر کے بعد علاقے میں تناؤ بڑھ گیا جو بعد ازاں احتجاج اور ہنگاموں کی صورت اختیار کر گیا۔

پرتشدد واقعات کے دوران مظاہرین نے مختلف مقامات پر املاک کو نقصان پہنچایا اور سڑکوں پر افراتفری پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر ان واقعات کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جس کے بعد صورتحال نے مزید توجہ حاصل کر لی ہے۔

ہینری نوواک کیس کے بعد برطانیہ میں کرپان اور چاقو قوانین پر نئی بحث چھڑ گئی

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ان پرتشدد کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں “قابلِ نفرت” قرار دیا ہے۔ حکام کی جانب سے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

مزید خبریں