اتوار,  07 جون 2026ء
اسلام آباد چیمبر میں ممبرشپ آڈٹ کے لیے درخواست دائر، ڈیموکریٹس گروپ کا شفافیت کا مطالبہ

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کارپوریٹ ممبر، ڈیموکریٹس گروپ کے صدر اور سابق امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ این اے 47 سید ندیم منصور نے چیمبر کے مالی اور انتظامی معاملات میں شفافیت کے مطالبے کے ساتھ ممبرشپ آڈٹ کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

سید ندیم منصور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر میں گزشتہ تقریباً 40 برس سے ایک مخصوص گروپ کا اثر و رسوخ قائم ہے، جس نے ادارے کو محدود مفادات کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں انتخابات بھی باقاعدگی سے نہیں کرائے جاتے تھے اور ایک ہی خاندان یا قریبی رشتہ دار مختلف عہدوں پر فائز ہوتے رہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ممبران کی جانب سے جمع کرائی جانے والی فیسوں کے استعمال میں شفافیت کا فقدان ہے اور ممبران کو ماہانہ مالیاتی تفصیلات یا بیلنس شیٹ فراہم نہیں کی جاتیں، حالانکہ یہ ہر ممبر کا قانونی حق ہے۔ ان کے مطابق چیمبر کے معاملات عملاً چند افراد کے ہاتھوں میں ہیں جو اپنی صنعتوں، کاروباری مفادات اور مخصوص حلقوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

سید ندیم منصور نے کہا کہ ان کے گروپ نے متعدد قانونی اور انتظامی معاملات میں چیمبر انتظامیہ کو چیلنج کیا، تاہم ان کے بقول اثر و رسوخ کے باعث شفاف تحقیقات اور اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں۔ اس کے باوجود ڈیموکریٹس گروپ ممبران کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس گروپ اب چیمبر کے تقریباً 30 فیصد ووٹوں کی حمایت حاصل کر چکا ہے اور آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گروپ کا مقصد چیمبر میں جمہوری روایات کو فروغ دینا، ماضی کے انتظامی و مالی معاملات کا جائزہ لینا اور احتساب کے عمل کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ممبرشپ فیس میں 53 فیصد اضافے کے معاملے پر ان کا گروپ پہلے بھی ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز (DGTO) کے فورم پر کامیابی حاصل کر چکا تھا، تاہم بعد ازاں ایک انتظامی کارروائی کے ذریعے فیس میں اضافہ نافذ کیا گیا جسے وہ قانونی طور پر قابلِ چیلنج سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف متعلقہ فورمز سے رجوع کریں گے۔

ڈیموکریٹس گروپ کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ گروپ چیمبر کے انتخابی عمل اور نامزدگیوں سے متعلق بعض شقوں کو چیلنج کرنے کے لیے DGTO اور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کرے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ کے تحت پراکسی ووٹنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور انتخابی عمل مکمل شفاف ہونا چاہیے۔

سید ندیم منصور نے کہا کہ چیمبر کے زیادہ تر ممبران این اے 47 سے تعلق رکھتے ہیں، اسی لیے وہ ممبران کے مسائل کو اجاگر کرنا اور متعلقہ حکام تک پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیمبر کے انتظامی اور مالی معاملات کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے تاکہ ممبران کا اعتماد بحال ہو سکے۔

واضح رہے کہ مذکورہ الزامات اور دعووں پر چیمبر انتظامیہ کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ خبر شائع ہونے تک اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل موصول نہیں ہوا تھا۔

مزید خبریں