ہینری نوواک کیس کے بعد برطانیہ میں کرپان اور چاقو قوانین پر نئی بحث چھڑ گئی

لندن(شہزاد انورملک) ہینری نوواک کیس کے بعد برطانیہ میں چاقو سے متعلق قوانین اور مذہبی استثنیٰ پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر عوامی مقامات پر چاقو لے جانا غیر قانونی ہے تو مذہبی بنیادوں پر دی جانے والی چھوٹ کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس میں مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور کسی بھی قسم کے بلیڈ یا دھار دار آلے کے حوالے سے ایک ہی معیار اپنایا جانا چاہیے۔ بعض صارفین نے سکھ مذہب میں استعمال ہونے والی کرپان کے لیے موجود قانونی استثنیٰ پر بھی تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ چاقو سے متعلق قوانین میں یکسانیت لائی جائے۔

دوسری جانب انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کرپان سکھ مذہب کی ایک مذہبی علامت ہے اور برطانوی قانون میں اس حوالے سے مخصوص شرائط کے تحت استثنیٰ موجود ہے۔ ان کے مطابق مذہبی آزادی اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

برطانیہ میں ریکارڈ توڑ گرمی میں پانی کیلیے قطاریں لگ گئیں

قانونی ماہرین کے مطابق برطانیہ میں عام طور پر عوامی مقامات پر بغیر معقول وجہ کے چاقو یا دھار دار آلہ ساتھ رکھنا جرم ہے، تاہم بعض مذہبی اور ثقافتی معاملات میں محدود قانونی استثنیٰ موجود ہے۔

ہینری نوواک کیس کے بعد سوشل میڈیا پر جاری یہ بحث اب وسیع عوامی اور سیاسی توجہ حاصل کر رہی ہے، جبکہ مختلف حلقے چاقو سے متعلق قوانین پر نظرثانی یا موجودہ قانونی فریم ورک کے دفاع میں اپنی آراء پیش کر رہے ہیں۔

مزید خبریں