میری دادی کے مجھ پر احسان میری ماں سے بھی زیادہ ہے؟
میں اور میرا دوست

روزانہ اگر فون پر دادی سے بات نہ کروں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے دن ابھی مکمل ہی نہیں ہوا۔
اور یہی حال پاکستان میں بیٹھی میری دادی جان کا بھی ہوتا ہے۔ شاید وہ بھی اُس دن کو دن نہیں مانتی جس دن میری آواز اُن کے کانوں تک نہ پہنچے۔

آج جب فون کیا تو اُن کی طبیعت کافی ناساز تھی۔ آواز میں کمزوری تھی، سانسوں میں تھکن تھی اور لفظوں میں وہ درد تھا جو بڑھاپا آہستہ آہستہ انسان کے وجود میں اتارتا رہتا ہے۔

آج اُن کی صحت کو لے کر پریشان بیٹھا سوچتا رہا کہ شاید میری دادی کے مجھ پر احسان میری ماں سے بھی زیادہ ہیں۔

لیکن پھر اچانک دل نے خود ہی مجھے ٹوک دیا۔
نہیں…!
ماں تو ماں ہوتی ہے۔
ماں کا مقام، ماں کا احسان، ماں کی قربانی… ان کا کوئی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔

پھر خیال مجھے بچپن کی اُس دہلیز پر لے گیا جہاں میری عمر صرف دو سال تھی اور میری بہن ابھی پانچ دن کی تھی جب ہماری والدہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
ایک جوان ماں اپنے بچوں کو زندگی دے کر خود مٹی اوڑھ گئی۔
وہ لمحہ شاید قیامت سے کم نہ ہوگا۔

اُس دن کے بعد دو ننھی جانوں کی ذمہ داری دادی کے کمزور کندھوں پر آن پڑی۔

وہ پہلے ہی بڑھاپے کی عمر میں داخل ہو چکی تھیں۔
زندگی کی تھکن اُن کے چہرے پر اتر چکی تھی۔
پھر جوان بہو کا دنیا سے یوں اچانک چلے جانا…
دو چھوٹے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری…
اور سب سے بڑھ کر آنکھوں کی بینائی کا ساتھ چھوڑ دینا…

یہ سب امتحان ایک ساتھ کسی پہاڑ کی طرح اُن پر ٹوٹے تھے۔
لیکن اللہ کی خاص توفیق تھی کہ وہ ہر دکھ کے سامنے دیوار بن کر کھڑی رہیں۔

سفید پوشی تھی مگر عزت بھی تھی۔
اپنے حصے کی خوشیاں قربان کرکے انہوں نے ہمیں تعلیم دی، تربیت دی، جینے کا سلیقہ دیا۔

اور ایک بات بتانا چاہوں گا…
باقی آپ خود اندازہ کر لیجیے گا کہ دادی کی محبت کیسی ہوتی ہے۔

اسکول کے زمانے میں جب عصر کے وقت گاؤں کے بچے کرکٹ کھیلنے نکلتے تو میں بھی اُن کے ساتھ کھیلتا تھا۔
لیکن میرے سارے دوست مجھ سے خفا رہتے تھے۔
وجہ میرا اچھا یا برا کھیلنا نہیں تھا…
وجہ صرف میری دادی تھی۔

ہم اپنے محلے سے تھوڑا دور ویرانے میں کھلی زمینوں پر کرکٹ کھیلتے تھے۔
میچ اپنے عروج پر ہوتا، شور مچا ہوتا، ہم جیت ہار کے جنون میں ڈوبے ہوتے…
کہ اتنے میں سورج ڈھلنے لگتا، شام کی ہلکی سی اداسی زمین پر اترتی اور دور سے ایک لرزتی ہوئی آواز سنائی دیتی:

“ندیم… ندیم۔۔۔ او ندیم…!”

وہ میری دادی ہوتیں۔
ٹھڈے کھاتی، لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ میدان کی طرف آتیں، اور زور زور سے مجھے آوازیں دیتیں۔

میں شرمندگی اور ناپسندیدگی کے ساتھ آدھا کھیل چھوڑ کر واپس گھر چلا جاتا۔
میرے دوست کہتے:

“ہماری مائیں تو ہمیں بلانے نہیں آتیں، تمہاری دادی کیوں آ جاتی ہیں؟
میچ بھی خراب ہو جاتا ہے!”

اور میں غصے میں آکر دادی سے لڑتا۔

“مجھے بلانے نہ آیا کریں… نہ آیا کریں…!”

وہ خاموشی سے صرف ایک جملہ کہتی:

“بیٹا شاماں پیہ گئی آں…
وقت بڑا خراب اے…
مینوں ڈر لگدا اے…”

ہر روز یہی میری لڑائی ہوتی…
اور ہر روز یہی اُن کا جواب۔

پھر وقت گزرا۔
میں تھوڑا بڑا ہوا، میٹرک میں پہنچ گیا۔
لیکن دادی کا انداز نہ بدلا۔
وہ اب بھی شام ڈھلے مجھے لینے آ جاتیں۔
فرق صرف اتنا آیا کہ اب میں اُن کے ساتھ فوراً واپس آنے کے بجائے کہتا:

“بس دادی… دس منٹ میں میچ ختم کرکے آ جاتا ہوں…”

آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے اُس وقت جو چیز مجھے پابندی لگتی تھی، وہ دراصل محبت کی سب سے بڑی شکل تھی۔
جو بات اُس وقت بوجھ لگتی تھی، آج وہی احسان محسوس ہوتی ہے۔

میں نے اوپر لکھا کہ شاید میری دادی کے مجھ پر احسان میری ماں سے زیادہ ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ماں اور دادی کے احسانوں کو آپس میں تولا ہی نہیں جا سکتا۔

میری ماں ایک نیک سیرت، اعلیٰ اخلاق کی مالک خاتون تھیں۔
وہ ہمیں دنیا میں لاتے ہوئے اپنی جان دے گئیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ شہادت کی موت ہے۔
جب کوئی عورت زچگی کے وقت دنیا سے چلی جائے تو وہ صرف مرتی نہیں، قربانی کی معراج پا لیتی ہے۔

میری بہن صرف پانچ دن کی تھی جب ہماری ماں اس دنیا سے چلی گئی۔
سوچیے…
اُن احسانوں کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے جو ایک ماں اپنی زندگی دے کر اولاد پر کرتی ہے؟

اور پھر اُس دادی کے احسانات کا کیا مقابلہ ہو سکتا ہے جس نے بڑھاپے میں، آنکھوں کی بینائی کے بغیر، پانچ دن کی بچی اور دو سال کے بچے کو سینے سے لگا کر پروان چڑھایا؟

دادی نے ہمیشہ یہی تربیت کی کہ:

“اپنی ماں دی قبر دی لاج رکھیں… لوگ کہن چنگی ماں دا پتر اے…”

شاید یہی الفاظ میری پوری زندگی کا سرمایہ بن گئے۔

اور باپ کے احسانات کو بھی کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے…
وہ باپ جو حق حلال کی محنت مزدوری کرکے اپنی اولاد کے لیے رزق کماتا ہے، اپنی خواہشیں مار دیتا ہے مگر بچوں کی ضرورت پوری کرتا ہے۔

آج میری دادی جان علیل ہیں۔
کمزور ہیں۔
لیکن میرے لیے آج بھی وہی سایہ ہیں جس کے نیچے میرا پورا بچپن محفوظ رہا۔

آپ سب سے دل کی گہرائیوں سے دعا کی درخواست ہے۔
اللہ کریم میری دادی جان کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے، اُن کی دعاؤں کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔آمین۔

مزید خبریں