اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں پیشہ ور گداگری کا رجحان اب صرف سڑکوں، بازاروں اور گلی محلوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ٹک ٹاک، فیس بک اور واٹس ایپ پر بھی اس میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عوامی حلقوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اب بعض افراد گھروں یا کمروں میں بیٹھ کر کیمرے کے سامنے لائیو ویڈیوز کے ذریعے مالی مدد کی اپیل کرتے ہیں۔ کئی ٹک ٹاک اکاؤنٹس پر روزانہ مبینہ غربت، بیماری اور مجبوری کی کہانیاں سنا کر لوگوں سے پیسے مانگے جاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس عمل نے نہ صرف پاکستان کا منفی تاثر دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے بلکہ حقیقی ضرورت مند افراد کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے۔
دوسری جانب یورپ، برطانیہ اور خلیجی ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ پاکستان سے بعض لوگ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس کے ذریعے بچوں، خواتین یا بیمار افراد کی تصاویر اور ویڈیوز بھیج کر ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی اوورسیز پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات زخمی بچوں، اسپتالوں یا غربت کی تصاویر استعمال کرکے فوری مالی مدد کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
واٹس ایپ کا آنے والا نیا ڈیزائن سب کو چونکا دے گا!
اوورسیز کمیونٹی کے مطابق ان میں سے کچھ کیسز حقیقی ہوتے ہیں، تاہم بڑی تعداد میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں جعلی کہانیاں بنا کر لوگوں سے رقم وصول کی گئی۔ بعض افراد مختلف گروپس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے باقاعدہ مہم چلاتے ہیں اور خاص طور پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ جذباتی طور پر جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔
ماہرین سماجیات کے مطابق معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی اور سوشل میڈیا کی آسان رسائی نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر “گفٹس” اور آن لائن ادائیگی کے نظام نے بھی بعض لوگوں کو اس جانب راغب کیا ہے، جہاں چند منٹ کی ویڈیو یا لائیو سیشن سے فوری مالی فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو کسی بھی مالی مدد سے قبل مکمل تصدیق کرنی چاہیے۔ صرف مستند فلاحی اداروں یا قابل اعتماد ذرائع کے ذریعے عطیات دینا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جذباتی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے دھوکہ دہی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سماجی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جعلی گداگری، مالی فراڈ اور ہمدردی کے نام پر رقم بٹورنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنے والے ایسے رجحانات کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقی مستحق افراد کے لیے منظم فلاحی نظام کو مضبوط بنایا جائے جبکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خلاف عوام میں شعور بھی اجاگر کیا جائے تاکہ ہمدردی کے جذبے کو دھوکہ دہی کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔











