آج کا وقت ہی بہترین ہے اور لوٹ لو ان کے گودام

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

آج کا وقت ہی بہترین ہے اور لوٹ لو ان کے گودام

دو باتیں کروں گا آج میں اور دونوں ہی نہایت اہم باتیں ہیں۔ اگر تم انہیں غور سے پڑھو گے اور سمجھو گے تو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہاری مشکلیں آسان کرنے کے لیے ہی آج خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔
اس وقت اپنی معاشی اور گھریلو پریشانیاں ،پانچ منٹ کے لیے بالکل بھول جاؤ ،صرف میری بات پر توجہ دو کہ میں کیا کہنے جا رہا ہوں۔
تم جانتے ہو کہ آج سے 10 سال پہلے جب پیٹرول 119 روپے لیٹر تھا، اس وقت تم پچھلی حکومتوں سے ناراض ہو جایا کرتے تھے کہ انہوں نے پیٹرول 85 روپے سے 119 روپے تک پہنچا دیا ہے اور وہ حال تمہیں ماضی کے مقابلے میں بہت تکلیف دے محسوس ہوتا تھا۔
119 سے پیٹرول 175 تک بھی آیا،تم لوگ پھر چیخے، چلائے، احتجاج کیا اور پھر اسی قیمت پر راضی ہو گئے
اور پھر تم کہنے لگے کہ جب پٹرول 119 روپے کا تھا تب وہ وقت اچھا تھا، آج حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔
پھر پیٹرول ہر دور حکومت میں بڑھتا جا رہا ہے، ہم روتے ہیں! تڑپتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں! پھر خاموش ہو جاتے ہیں اور پھر ماضی کو یاد کر کے کہتے ہیں کہ وہ دور اچھا تھا حالانکہ اس دور میں ہم حکمرانوں کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیا کرتے تھے۔
تو آج میرا یہ پیغام غور سے سنو، آج جب پیٹرول چار سو 15 روپے کا فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے تو یہی وقت تمہاری زندگی کا بہترین وقت ہے،
تم خوشیاں مناؤ، ہنسو! کھیلو، دوستوں کے ساتھ انجوائے کرو، فیملی کے ساتھ باہر گھومو پھرو کیونکہ یہ 415 روپے فی لیٹر والا دور بہت جلد ختم ہو جائے گا اور پٹرول 500 روپے سے تجاوز کر جائے گا، تم انتظار کرو یہ صرف چند دنوں کی ہی تو بات ہے ۔
اسی لیے میں تمہیں کہتا ہوں کہ آج جی بھر کے خوش ہو لو اور حکمرانوں کو برا بھلا کہنا چھوڑ دو کیونکہ کل کو تم انہی حکمرانوں کو بہتر جانو گے جب نئے حکمران قیمتیں آسمانوں پر لے جائیں گے ۔

اور دوسری بات اس سے زیادہ اہم اور تمہارے دلوں کو چھو لینے والی ہے، وہ یہ کہ اس مہنگائی کے دور میں لوگ اپنے موٹر سائیکل کو آگ لگا رہے ہیں،
اشیائے خرد نوش کو اپنی دسترس میں نہ پا کر انسان خود کشیاں کر رہا ہے۔
تو ایسے برے اور سنگین معاشی حالات میں اگر کوئی تم چوری کر لیتے ہو،
کوئی کھانے پینے کی دکان لوٹ لیتے ہو،
گندم اور خوراک کے بھرے ہوئے گودام خالی کر لیتے ہو
تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اور تم کسی جرم کے مرتکب بھی نہ ہو گے
کیونکہ کسی ایسے ملک میں جہاں حکمرانوں کی مالی بداعمالیوں، غلط پالیسیوں، ناجائز حکومت سازیوں کی وجہ سے وہاں کے عوام کی زندگی اجیرن ہو جائے تو وہ اشیاء خورد نوش کے سٹورز پر ہلہ بولنے اور ایسے کارخانوں پر حملہ کر کے انہیں تاخت وتاراج کرنے میں حق بجانب ہو گے جہاں مزدور کو پیٹ بھر کر دو وقت روٹی کھانے کے لیے بھی معاوضہ میسر نہ ہو اور مالکان ،کروڑوں ،اربوں پتی بن جائیں۔
میں تم لوگوں کو گارنٹی دیتا ہوں کہ اگر تم ایسی کسی مہم جوئی کا ارتکاب کرتے ہو تو ہماری رحمدل عدلیہ تمہارے لیے اپنے دل میں ضرور ایک نرم گوشہ رکھے گی۔
غالبا حضرت عمر کے دور حکومت کا واقعہ ہے کہ قاضی کے پاس ایک کیس آیا جس میں ایک شخص اجناس کی چوری کا مرتب ہوا تھا ،قاضی نے اس بنا پر ملزم کو بری کر دیا کہ اس وقت ریاست کے معاشی حالات بہت خراب تھے اور عام آدمی کے لئے کوئی وسیلہ روزگار نہ تھا ،تو پھر اگر وہ اپنے خاندان کی خوراک کے لیے چوری نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا ؟

اور جہاں تک میری بات ہے تو میں تم لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ کہ اگر تم ان ساہو کاروں کے گودام لوٹ لو، ان بڑے بڑے جنرل سٹورز اور مارٹز میں لوث مار کرو تو تم لوگوں کا کیس میں خود لڑوں گا اور عدالت سے تمہیں باعزت بری بھی کرواؤں گا ۔

مزید خبریں