حیدرآباد(روشن پاکستان نیوز) کیا آپ کسی بھی بات پر شک اور نام بھولنے لگے ہیں؟ اسے معمولی نہ سمجھیں، فوری چیک اپ کرائیں یہ خطرناک بیماری کی علامت ہوسکتی ہے۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بار بار شک کرنا، نام بھول جانا اور روزمرہ کے معمولات میں الجھن محسوس کرنا کسی سنجیدہ دماغی عارضے کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیمینشیا دراصل دماغی امراض کا ایک مجموعہ ہے، جو بتدریج یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بیماری دماغی خلیات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث پیدا ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ شدت اختیار کرتی جاتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمینشیا کی سب سے عام وجہ الزائمر کی بیماری ہے، جو خصوصاً 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں زیادہ دیکھی جاتی ہے، تاہم اسے عمر بڑھنے کا لازمی حصہ سمجھنا درست نہیں۔
ابتدائی علامات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق درج ذیل علامات ڈیمینشیا کی ابتدائی نشاندہی کر سکتی ہیں جیسے کہ حالیہ واقعات بار بار بھول جانا، عام کاموں میں دشواری، نام اور الفاظ یاد رکھنے میں مشکل پیش آنا، وقت اور جگہ کے حوالے سے الجھن، موڈ اور رویے میں اچانک تبدیلی یا نفسیاتی تبدیلیاں بھی اس مرض کا اہم اشارہ ہیں۔
ڈیمینشیا کے مریضوں میں بعض نفسیاتی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے کہ ایسی چیزیں دیکھنا جو حقیقت میں موجود نہ ہوں (ہیلو سینیشن) غیر مناسب یا غیر معمولی رویہ، بےجا شک یا بدگمانی، شخصیت میں تبدیلی، بے چینی اور ڈپریشن وغیرہ۔
کن افراد میں خطرہ زیادہ؟
ماہرین کے مطابق درج ذیل عوامل ڈیمینشیا کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں جیسے بڑھتی ہوئی عمر، سماجی تنہائی، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس، تمباکو نوشی، شراب نوشی، موٹاپا اور ڈپریشن وغیرہ۔
بروقت تشخیص کیوں ضروری؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمینشیا کی علامات ہر فرد میں مختلف ہوسکتی ہیں، اس لیے خود تشخیص کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے سے نہ صرف بہتر علاج ممکن ہوتا ہے بلکہ مریض کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیمینشیا کو عام بڑھاپے کا حصہ سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے، جس کی وجہ سے اکثر مریض بروقت تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں۔











