واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہےکہ مذاکرات کے لیے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام کا خاتمہ بھی امریکی تجاویز میں شامل ہے۔
ایران کو امریکی تجاویز پہنچانے والے دو پاکستانی اور ایک مصری عہدیدار نے امریکی خبر ایجنسی سےگفتگو کی۔
خبرایجنسی کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کو امریکا کی 15 نکاتی تجاویز پہنچائی گئی ہیں، امریکا کی 15 نکاتی تجاویز میں ایران پر پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔
خبرایجنسی کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام کا خاتمہ بھی امریکی تجاویز میں شامل ہے، اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی امریکی تجاویز میں شامل ہے۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ( آئی اے ای اے)کی طرف سے ایران کی نگرانی بھی مجوزہ منصوبے میں شامل ہے، ایران اور امریکا کے درمیان سویلین جوہری تعاون بھی تجاویز میں شامل ہے۔
سعودی عرب کے دفاع کیلئے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، اعلیٰ پاکستانی عہدیدار
ایک پاکستانی اعلیٰ عہدیدار نے امریکی خبر ایجنسی سےگفتگو میں کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، پاکستان مشرق وسطیٰ تنازع کے حل کے لیے تمام فریقوں سے رابطہ کر رہا ہے، سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے پاکستان کی وابستگی غیرمبہم اور پختہ ہے۔
پاکستانی اور مصری عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی اور امریکی عہدیداروں کی ملاقات جمعےکو پاکستان میں ہوسکتی ہے۔
مسلح گروپوں کی ایرانی حمایت پر پابندی بھی امریکی تجاویز میں شامل ہے،مصری عہدیدار
مصری عہدیدار کے مطابق 15 نکاتی تجاویز جنگ بندی پر پہنچنے کا جامع معاہدہ ہے، مسلح گروپوں کی ایرانی حمایت پر پابندی بھی امریکی تجاویز میں شامل ہے۔
صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتاہوں، سابق سربراہ سی آئی اے
سربراہ آئی اے ای اے رافیل گروسی کے مطابق امریکا ایران مذاکرات اس ہفتے اسلام آباد میں ہونےکا امکان ہے، امریکا ایران مذاکرات نہ صرف نیوکلیئر ایشو بلکہ وسیع امور پر ہوں گے، میزائل، ایران سے جڑی ملیشیا اور سکیورٹی یقین دہانیاں مذاکرات کا حصہ ہوں گی۔
مذاکرات کے لیے پاکستان یا ترکیے کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے، سینئرایرانی اہلکار
اس کے علاوہ سینئرایرانی اہلکار نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے امریکا کی بھیجی گئی تجاویز ایران کو پہنچا دی ہیں، مذاکرات کے لیے پاکستان یا ترکیے کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے، ترکیے نے بھی جنگ ختم کرنے میں مدد کی ہے۔











