تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
یا اللہ مناسب موقع دیکھ کر ان کو اپنے پاس بلا لے
کل عید کا اعلان ہو چکا تھا اور میں اسی انتظار میں تھا لہذا میں آخری افطاری کے وقت مسجد پہنچ چکا تھا تاکہ میرے عزیز دوست جب اعتکاف سے نکلیں تو میں ان کا استقبال کروں ۔
مولوی صاحب دعائیں مانگنا شروع کر چکے تھے، کہہ رہے تھے کہ اعتکاف میں بیٹھنے والوں کے لیے جنہوں نے دسترخوان لگائے تھے انہیں اپنے ہاں سے اور دے،
جتنا انہوں نے دیا اس سے دس گنا عطا فرما۔
اور یہاں اعتکاف کرنے والوں کے صدقے باقی جملہ مسلمانوں کو معاف فرما دے۔
مولوی صاحب اعتکاف سے فارغ ہو کر گھر جانے والوں کے حق میں اس اعتماد سے دعائیں مانگ رہے تھے جیسے کہ اللہ ان کا رشتہ دار ہے۔
کہنے لگے کہ انہیں دین و دنیا کی بھلائی دے۔
اور میں بھی مجمے کے ساتھ ہاتھ اٹھائے دعائیں مانگ رہا تھا
کہ یا اللہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، جو جرائم کئے ہیں، جن جن کا حق مارا ہے، جو کچھ ہم نے نا انصافیاں کی ہیں، اپنے رشتہ داروں کے ساتھ، ہمسایوں کے ساتھ، دنیا والوں کے ساتھ،
ہو سکے تو ہمیں توفیق دے کہ ہم نے جن کا دل دکھایا ہے ان سے معافیاں مانگ سکیں،
جن کا حق مارا ہے ان کو ان کا حق واپس لوٹا سکیں لیکن پھر میں اپنی دعا مانگتے ہوئے بھٹک گیا کیونکہ میرے کانوں میں مولوی صاحب کی آواز آئی جو کہہ رہے تھے کہ
یہ جو 10 دن لوگ اعتکاف میں بیٹھے ہیں ان کی نیکیوں کے بدلے میں ہم سب کو معاف کر دے۔
ہم اعتکاف میں بیٹھنے کے قابل نہیں ہیں یا اللہ، ہم میں ہمت نہیں ہے کہ عبادت کر سکیں۔
ہم گنہگار لوگ ہیں۔
ہم آسی ہیں پر جو لوگ ہمت کر کے مسجدوں میں آگئے ۔
دس دس دن اعتکاف میں بیٹھ گئے۔
ہمیں ان کے صدقے معاف فرما اور جنت میں اعلی درجات عطا فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی رضا نصیب فرما۔
میرے اللہ اعتکاف والوں کے اعتکاف کی برکت سے ہمارے گناہوں کو معاف کر۔
یا الہ العالمین، رب ذوالجلال کائنات ہم سب کو یا اللہ کریم رمضان کی فضیلتیں نصیب فرما۔
صحت والی زندگی نصیب فرما۔
برکتیں نصیب فرمانا ۔
لا الہ العالمین زندگی صحت والی، ایمان والی نصیب فرما،خیر والی عطا فرما، شر سے محفوظ فرما۔
یا اللہ یہ تیرے مہمان، تیرے ماننے والے دس دن تیری رضا کے لیے یہاں قیام پذیر رہے۔
میرے اللہ، اے بادشاہوں کے بادشاہ، میرے پروردگار اپنی رحمت کے بدلے اللہ ان کی حاضری قبول فرما ۔
حرم میں ایک شخص طواف کے بعد بیت اللہ شریف کے غلاف کو پکڑ کر اپنی زبان پنجابی میں یہ کہہ رہا تھا
رب سونیا میں تیرا مہمان آں
تے ساڈے کو اپنی استطاعت کے مطابق الہ العالمین خدمت کر دتے،
تو مالک اے۔
اب تو بتا ہمارے ساتھ کیا کرے گا،
بدلے میں اللہ ہمیں مغفرتیں عطا کر دے۔
اس کی دعا جو سادہ تھی حرم میں جتنے لوگوں نے سنی آمین کہا۔
تمام جہانوں کے مالک تجھ سے تیرے بندے اپنی مغفرت کا سوال کرتے ہیں۔
مالک ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے اور ہمارے والدین کی بھی مغفرت فرما دے ۔مومنین کی مغفرت فرما دے۔
یا الہی اپنے خوف سے رونے والی آنکھیں عطا فرما۔
اپنی عبادت رکھنے والا دل عطا فرما ۔
صدقہ خیرات دینے والے ہاتھ نصیب فرما۔
دل کی نرمی نصیب فرما۔
مالک کریم، ذکر والی زبان نصیب فرما ۔
رب ذوالجلال حرمین شریفین کی زیارتِیں عطا فرما۔
جنہوں نے اعتکاف کیا انہیں اور جنہوں نے نہیں کیا مالک انہیں بھی مدینہ بلا کر وہاں اعتکاف نصیب فرما۔
الہی، رمضان کے اندر ہمیں عمرہ شریف کی سعادتیں نصیب فرما۔
پاکستان کی خیر فرما، مسلمانوں کی خیر فرما،
اسرائیل کو نابود فرما۔
ہماری پریشانیاں دور فرما۔ سکون عطا فرما۔
الہی لڑائی جھگڑے سے جان چھڑوا۔
امن قائم فرما۔
الہ العالمین شوال مکرم کا چاند نظر آگیا ہے کل عید ہوگی۔
مسلمانوں کی خوشیوں میں عید کی بڑی خوشی ہے۔
مالک اس خوشی کے موقع میں ہمارے گناہوں کو بھی معاف فرما ۔
یا اللہ اپنے پیاروں کو جو لینے آئے ، مبارکیں دینے آئے، اللہ سب کے لیے مبارک باد سب کو بابرکت زندگی نصیب فرما۔
اللہ ان کی زندگی میٹھی بنا دے۔
ان کی زبان بھی،
کعبہ میٹھا بنا دے۔
یا اللہ ہماری دعائیں قبول فرما۔
ابھی آپ سب لوگوں نے محترم مولوی صاحب کی وہ دعائیں پڑھ لیں ہیں جو میں نے سنی تھیں۔یہ انہوں نے بڑے خشوع و خضوع سے اعتکاف میں بیٹھنے والوں کے لیے مانگیں۔
اب میں دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ ہماری قوم کو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایسے مولوی عطا فرما
جو دعاؤں سے ہٹ کر عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہوں ۔
اے اللہ ہمیں ایسے مولویوں سے جلد نجات دے جنہوں نے ہمیں 1400 سال سے دعاؤں کے پیچھے لگا رکھا ہے۔
اللہ کوئی اچھا سا موقع دیکھ کر اس طرح کے دو نمبر مولویوں کو اکٹھا ہی اپنے پاس کسی دعوت کے بہانے بلا لے
اور پھر انہیں ہمیشہ کے لیے اپنے پاس ہی رکھ لے
آمین ثم آمین











