هفته,  21 مارچ 2026ء
او بے حسو تم پر اللہ کی رحمت ہو

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

او بے حسو تم پر اللہ کی رحمت ہو ۔

آج عید کا دن ہے اور چاند رات سے ہی ہماری قوم اور اشرافیہ ،عید الفطر کی تیاریوں اور مبارکبادیں دینے میں مصروف ہے ۔

ایک طرف بازاروں میں گہما گہمی ہے ۔
ٹی وی چینلز کے رپورٹر بچے بچیوں ،مردوں عورتوں کو روک روک کر عید الفطر کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ سب کچھ نشر ہو رہا ہے۔

دوسری طرف ایران پر اسرائیل و امریکہ کے متواتر میزائل حملے جاری ہیں۔
آج 22واں روز ہے ۔
ایران کے کئی شہر تباہی کے دھانے پر ہیں ۔
ایک طرف وزیراعظم نے پاکستانی قوم کو عید الفطر کی دلی مبارکباد دی ہے اور کہا ہے کہ رمضان المبارک کے بعد عید عوام کے لیے ایک خوشیوں بھرا تحفہ ہوتی ہے۔
اور دوسری طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے افغانستان کو متنبہ کیا ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان تین روزہ جنگ بندی کا اعلان رمضان المبارک کے احترام میں پہلے ہی کر چکا ہے۔
آج ایران کے نطنز جوہری تنصیب پر میزائل حملے کیے گئے ہیں جس سے جوہری پلانٹ کو بھاری نقصان پہنچا ہے
اور اس سے نہ صرف ایران میں بلکہ اس سے ملحقہ ممالک میں بھی تابکاری اثرات پھیلنے کا اندیشہ ہے جو انسانی زندگی کو نگل سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپاہج بنا سکتے ہیں۔
یہ لمحہ فکریہ ہے انسانیت کے لیے ۔
ایک طرف ٹی وی چینلز سلیبرٹیز کو ،فلم سٹارز کو، ماڈلز کو، ٹی وی اینکرز کو اپنے پروگراموں میں مدعو کر کے عید کی مبارکبادیں دے اور لے رہے ہیں
اور عوام کو خوشیوں بھرے پیغامات مسکراتے چہروں کے ساتھ دیتے ہیں۔

دوسری طرف میں سمجھ نہیں پاتا کہ یہ کس طرح مسکرا لیتے ہیں؟
ان کے چہرے پہ ہنسی کیسے آ جاتی ہے؟
یہ کس طرح مبارک بادیں دے رہے ہیں عید کی؟
میں اندازہ نہیں لگا پاتا کہ یہ کتنے بے حس لوگ ہیں۔
یہ پاکستانی عوام، یہ ہماری اشرافیہ ،ہماری ایلیٹ کلاس، سبھی ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں
اور ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔
یہ کتنے بے ضمیر لوگ ہیں۔
نہ انہیں ایران میں اس کی تباہی و بربادی کا غم ہے۔
نہ ہزاروں جانوں کی شہادت اور ہزاروں لوگوں کے زخمی ہو جانے کا افسوس ہے۔
نہ اس عوام کو ،آیلیٹ کلاس اور اشرافیہ کو، فلسطین، سوڈان ،کشمیر کے لوگوں کی حالت زار یہ رونا آتا ہے ۔
اور نہ ہی یہ قوم یہ دیکھ پا رہی ہے کہ یہ جو سب کچھ ایران ،سوڈان ،مشرق وسطی ،فلسطین کے ساتھ ہو رہا ہے تو اس کے بعد کس کی باری ہے؟
اس کے بعد اسلام کے قلعے، واحد اسلامی ایٹمی ملک پاکستان کی طرف توجہ ہے ان کی۔
ایران کو کمزور کرنے کے بعد، مشرق وسطی کی تباہی اور بربادی کے بعد !پاکستان ایک سافٹ ٹارگٹ ہوگا۔
پاکستانی افواج لڑیں گی ،پاکستانی قوم، فوج کے ساتھ کھڑی ہوگی لیکن کتنے دن؟
ہم کتنے دن اسرائیل اور امریکہ کا مقابلہ کر پائیں گے؟
آخر ہماری فوج کے پاس جو ہتھیار ہیں، گولا بارود ہے، جو ٹیکنالوجی ہے وہ کتنے دن تک ہمارا سہارا بنے گی؟
ہم افغانستان اور عراق کی طرح کا ملک تو نہیں بننے جا رہے ہیں؟
اگر ایسا ہے تو پھر ہم کبھی وہ دن قیامت تک نہ دیکھ پائیں گے جو دن ہم آج کل دیکھ رہے ہیں
اور جو وقت ہم آج گزار رہے ہیں یہی ہمیں زندگی کا بہترین وقت محسوس ہوگا کیونکہ جنگ کے بعد کی صورتحال کا آپ لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے
لیکن میں چاہتا ہوں کہ جنگ سے پہلے کی صورتحال کو ہی آپ لوگ ذرا تصور میں لائیں کہ پاکستانی قوم کے ساتھ اور اس ملک کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کس طرح بڑھنے والی ہیں،
اشیائے خور دونوںش ہماری دسترس سے باہر ہو جائیں گی۔
غریب لوگ بھوکے مریں گے،
متوسط طبقے والے غریب ہو جائیں گے
اور امیر لوگ مشکل سے ہی اپنا گزارا کر پائیں گے ۔
پھر بھی یہ قوم نئے کپڑے پہننے میں مصروف ہے،
ایک دوسرے کو کھانے کی دعوتیں دی جا رہی ہیں ،
ہنس کھیل رہے ہیں،
انہیں کسی کی بھی پرواہ نہیں کہ دنیا میں اس وقت کیا چل رہا ہے۔
اس قوم کو تو اپنی بھی پرواہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے لیکن مجھے فکر ہے
دنیا کے حالات کی، مجھے پریشانی ہے خطے کی موجودہ صورتحال کی، مجھے دکھ ہے ان زخمیوں اور شہیدوں کا۔
میں نے آج عید نہیں منائی ہے۔
اچھے اور نئے کپڑے بھی نہیں پہنے اور جو آج رات کو دعوت دی گئی ہے میں اس میں بھی شریک نہیں ہوں گا

لیکن اے بے حس قوم تجھ پر اللہ کی رحمت ہو ۔
یہ بات میں طنزیہ نہیں کہہ رہا ہوں ۔
میں دل سے چاہتا ہوں کہ اس قوم اور اشرافیہ پر اگر اللہ کی رحمت ہوگی تو شاید یہ انسان کے بچے بن جائیں گے
اور کچھ سوچنے سمجھنے کی اہلیت حاصل کر لیں گے۔

تو میں پھر کہتا ہوں اے قوم،
اے بے حس، بے ضمیر اور بے جان قوم،
تجھ پر اللہ کی رحمت ہو

مزید خبریں