تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
ہم ہر جارحیت کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ ہم زندہ قوم ہیں
ایک طرف ہماری قوم ،ہماری افواج، ہمارے حکمران، سوڈان کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان اسرائیل کی مسلمانوں پر شدید بمباری کی بھرپور انداز میں مذمت کرتا ہے ۔
ہم شہیدوں کے لواحقین کے غم میں برابر کو شریک ہیں۔
وزیراعظم نے اردن کے شاہ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے اردن کے بادشاہ کو عید الفطر کی مبارک باد دی۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ مسلم دنیا کے کئی ممالک اسرائیلی حملوں کی زد میں ہیں اور کئی دنوں سے لوگ متواتر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں
اسرائیلی بمبار طیاروں نے سوڈان کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور ایران پر تو روزانہ سینکڑوں حملے ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام ان ملکوں کے عوام کے ساتھ شانہ سے شانہ ملا کر کھڑی ہے۔
اسی کے ساتھ وزیراعظم نے شاہ عبداللہ دوئم، ان کے خاندان اور اردن کی عوام کو پاکستان اور اپنی طرف سے عید الفطر کی مبارکباد دی۔
جبکہ سوڈان،فلسطین اور ایران کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں
لیکن ہم ان کے ساتھ، صیہونیوں اور امریکیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔
دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لگ بھگ 20 دنوں سے ایران کے مختلف شہروں، تنصیبات اور جزیروں پر میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے۔
2000 کے قریب عوام شہید ہو چکے ہیں۔
ٹاپ کی لیڈرشپ ہلاک ہو چکی ہے اس کے باوجود ہم ایران کی پیٹھ پیچھے اس کا سہارا بنے کھڑے ہیں
اور ہم اسرائیل کے خلاف بیان جاری کرتے رہیں گے ۔
ایران میں جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اور اربوں ڈالر کی معیشت تباہ ہو گئی، تنصیبات تباہ ہو گئیں ،کئی سالوں تک ایران اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکے گا لیکن ہم ایران کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے رہیں گے۔
تیسری طرف ہمارا مسلم بھائی سعودی عرب جو امریکیوں کو ایران کے خلاف حملہ کرنے کے لیے فوجی اڈے مہیا کرتا ہے اور انہی فوجی اڈوں پر ایران نے امریکی افواج کو ٹف ٹائم دینے کے لیے وہاں میزائل داغے ہیں تو ہم مکہ و مدینہ کے محافظ سعودی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی و یکجہتی کرتے ہیں۔
اور عہد کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی طرف جو بھی میلی آنکھ سے دیکھے گا ،چاہے وہ یمن کے حوثی باغی ہوں جو مدینہ اور مکہ اور ریاض پر میزائل پھینکتے ہیں یا کسی مسلم ملک کی طرف سے امریکیوں کی فوجی اڈوں پر حملہ۔
ہم حرمین شریفین کے محافظ ہونے کے ناطے طاغوتی قوتوں کے اس کردار کی بھرپور مذمت کرتے ہیں
اور سعودی حکمرانوں اور عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔
ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے
بہترین اسلحہ، گولہ بارود، میزائل اور فائٹر جہاز ہیں۔
ہمارے پاس ایٹم بم بھی ہے اور آپ کو یہ بھی یاد دلاتے چلیں کہ پاکستان رمضان کی 27ویں شب میں معرض وجود میں آیا تھا اور اسلام کے نام پر بنا تھا
اور پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ اس کا سلوگن تھا۔
تو اس لحاظ سے دنیا میں کسی بھی مسلمان ملک میں ظلم و ستم ہوگا یا بیرونی طاقتیں اس پر حملہ آور ہوں گی، خواہ وہ لیبیا ہو، عراق ہو، شام ہو، مصر ہو، سوڈان ہو یا اردن،
پاکستان کی مسلح افواج، حکمران اور جذباتی عوام ان سب کے ساتھ کھڑے ہو کر طاغوتی قوتوں کے سامنے سینہ سپر رہیں گے۔
اور ہم ہر ظلم کی بھرپور مذمت جاری رکھیں گے۔
کیونکہ
ہم زندہ قوم ہیں
پائندہ قوم ہیں
او معذرت چاہتا ہوں، میں تو فلسطینیوں کے مظلوم عوام سے ،جہاں پر 80 ہزار سے زیادہ بچے، بوڑھے، نوجوان، مرد،خواتین شہید ہو چکے اور لاکھوں کی تعداد میں زخمی ہیں، اظہار ہمدردی کرنا تو بھول ہی گیا۔
میں اپنی طرف سے، حکمرانوں کی طرف سے،مسلح افواج اور اپنی دلیر عوام کی طرف سے فلسطینیوں پر جو گزشتہ کئی سالوں سے ظلم و ستم کا بازار گرم ہے اور جن کی کو نہ زمینی اور نہ ہی آسمانی مدد پہنچ رہی ہے ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہوں
اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہوں
اور ان سے اظہار یکجہتی بھی کرتا ہوں
اور سب سے بڑھ کر ان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا رہوں گا۔
کشمیری عوام کے حوالے سے بھی میرا یہی سٹیٹمنٹ ریکارڈ کر لیا جائے
پاکستان پائندہ باد
میں تو کہوں گا کہ ہماری جیسی قوم زمین و آسمان اور پوری کائنات میں کہیں نہیں پائی جاتی
کیونکہ
ہم زندہ قوم ہیں
پائندہ قوم ہیں
اعلان لا تعلقی
میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ میں الحمدللہ مسلمان ہوں اور پاکستان کے مسلمانوں کی نمائندگی کر رہا ہوں لہذا رشیا/ یوکرین کی جنگ ہو یا برما میں کسی انسان کا قتل ہو
یا دنیا کے کسی خطے میں عیسائیوں پر یا کسی غیر مسلم پر جو بھی ظلم و ستم ہو، میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیں
اور میں ان سب سے لا تعلقی کا اعلان کرتا ہوں ۔
میں چونکہ مسلمان ہوں اس لیے مسلمانوں کا جہاں خون بہے گا وہاں میرے دل کو تکلیف پہنچے گی
غیر مسلموں نے تو ویسے ہی جہنم میں جلنا ہے











