منگل,  10 مارچ 2026ء
’’پٹرول کی قیمت ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے نہیں بڑھی‘‘ تو پھر وجہ کیا؟ جانیے اندر کی خبر

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز): حکومت نے علاقائی صورتحال کو جواز بنا کر پٹرولیم مصنوعات میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تاہم ماہر معیشت نے حکومتی جواز مسترد کر دیا۔

ایران اسرائیل اور امریکا جنگ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دنیا بھر میں توانائی بحران سر اٹھا رہا ہے۔

حکومت پاکستان نے موجودہ صورتحال میں پٹرول کی نئی قیمت کا تعین اب ہر ہفتے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دو روز قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا اچانک اضافہ کر دیا، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

حکومت نے اس اضافے کا جواز ایران اسرائیل جنگ کو بتایا۔ تاہم اے آر وائی نیوز کے پروگرام رپورٹرز میں ماہر معیشت فرخ سلیم نے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کا یہ جواز یکسر مسترد کر دیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں بھی اضافہ

فرخ سلیم نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے جو 55 روپے فی لیٹر حالیہ اضافہ کیا ہے، اس کا ایران اسرائیل جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس اضافے سے ایک دن پہلے تک وزیر خزانہ کہہ رہے تھے کہ ملک میں 28 دن کا اسٹاک موجود ہے۔

ماہر معیشت نے کہا کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرتی ہے اور حکومت پاکستان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ قیمت کیوں کم نہیں کر رہی تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ہمارے یہ سودے 45 دن پہلے کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے اسی دعوے کو سچ مانا جائے تو ملک میں جو پٹرول ذخیرہ موجود ہے، وہ بھی 45 دن پہلے کا ہے جو اس وقت 60 سے 62 ڈالر فی بیرل تھا، یعنی حکومت نے 105 روپے فی لیٹر یہ تیل خریدا تھا، جس کو اب 321 روپے میں بیچا جا رہا ہے۔

فرخ سلیم نے کہا کہ یہ کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں بلکہ بہت سادہ سا انوینٹری گیم ہے کہ سستا مال موقع ملتے ہی مہنگا بیچ دو۔ اس اضافے سے 113 ارب روپے کا فائدہ ہوگا اور یہ فائدہ کہاں جائے گا۔

ماہر معیشت نے مزید کہا کہ سامنے کی بات ہے کہ ملک میں کئی کمپنیاں ہیں۔ اس بڑا پرافٹ تو حکومت کے کھاتے میں جائے گا لیکن کمپنیوں کو بھی اس میں حصہ ملے گا، یعنی کہہ سکتے ہیں کہ حکومت اور یہ کمپنیاں دونوں مال بنا رہی ہیں اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے۔

مزید خبریں