جمعرات,  07 مئی 2026ء
گریڈ 11کے سفارشی مجسٹریٹ نےشہریوں کی ناک میں دم کردیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)اسلام آباد میں مارکیٹ کمیٹی کے گریڈ 11 کے ملازم نے مجسٹریٹ بن کر شہریوں کی ناک میں دم کر دیا،حقیقت آشکار ہونے پر ڈی سی اسلام آباد میں نوٹس لیتے ہوئے عہدے سے ہٹا کر تحقیقات کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی انتظامیہ کی مارکیٹ کمیٹی کے  گریڈ 11 کے کلرک نے مجسٹریٹ بن کر شہریوں کی ناک میں دم کر دیا۔

مذکورہ مجسٹریٹ بارہ کہو میں ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا اور آئے روز تاجروں کو شاپر کے حوالے سے تنگ کرتا رہتاتھا جس کے بعد اس کا نام شاپر مجسٹریٹ پڑ گیا۔

مجسٹریٹ کے اس اقدام کے خلاف تاجروں نے ہڑتال کی دھمکی دی اور جب پانی سر سے گزر گیا تو حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مذکورہ مجسٹریٹ نے تاجروں سے معافی بھی مانگ لی جبکہ حقیقت آشکار ہونے پر ڈی  سی اسلام اباد رضوان علی رندھاوانے نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف عہدے سے ہٹا دیا بلکہ تحقیقات کا حکم بھی دے دیا۔

ذرائع کے مطابق اس وقت اسلام آباد میں 26 مجسٹریٹ کام کر رہے ہیں جن میں صرف چار اصل مجسٹریٹ ہیں جبکہ باقی مجسٹریٹ کے حوالے سے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ڈی سی آفس اسلام آباد میں ایک ونگ بنا ہوا ہے جہاں پر بھاری رشوت کے عوض مجسٹریٹ بنا دیا جاتا ہے۔

حالانکہ مجسٹریٹ کے لیے گریٹ 17 کا ملازم ہونا ضروری ہے اور مجسٹریٹ بننے کے بعد باقاعدہ کورس بھی کروایا جاتا ہے تاکہ یہ ملازمین عوام کی بہتر طریقے سے خدمت کر سکیں اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ان کے حقوق دلوانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

مزید خبریں