جمعرات,  07 مئی 2026ء
مخصوص نشستوں کا عدالتی فیصلہ آئین کے آرٹیکلز سے باہرجاکرلکھا گیا،سحرکامران
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، سحر کامران

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما ورکن قومی اسمبلی سحرکامران نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کا عدالتی فیصلہ آئین کے آرٹیکلز سے باہرجاکرلکھا گیا۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہاکہ مخصوص نشستوں کا عدالتی فیصلہ آئین کے آرٹیکلز سے باہرجاکرلکھا گیا۔

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی ملک میں جمہوریت کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

انہوں نے کہاکہ  آمروں اور کٹھ پتلیوں نے معاشرے، معیشت اور جغرافیے کو نقصان پہنچایا، شہید بھٹو نے پوری قوم کو جگایا اور صلاحیتیں بروئے کار لاکر انھیں با اختیار بنایا۔

سحرکامران نے کہا کہ بیگم بھٹواورشہید بی بی نے ملک میں بحالیِ جمہوریت کے لیئے جدوجہد کی ، قائدِ عوام کی جانب سے کمزورطبقات کو بااختیاربنانے پراستحصالی گروہ چوکنا ہوگیا جب کہ استحصالی گروہ کی سازشوں نے شہید بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا۔

بجٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم شہبازحکومت کو مکمل سپورٹ کر رہے ہیں مگر بجلی کے بلوں،کسانوں کے حالات نے ہمیں اب سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ہم ایسا کب تک کرینگے۔

رکن اسمبلی نے کہاکہ شہید بھٹو سمجھتے تھے کہ غربت و افلاس قدرت نہیں انسانوں کے پیدا کردہ ہیں، قائد عوام کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانے پر استحصالی گروہ چوکنا ہوگیا، اسی استحصالی گروہ کی سازشوں نے شہید ذوالفقار بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا، عوامی حکومت کے خاتمے کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت و کارکنان پر مظالم ڈھائے گئے۔

انہوں نےکہاکہ گندم کے کاشتکاروں کو نگراں حکومت کی جانب سے ضرورت سے زیادہ درآمدات کی وجہ سے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب کپاس کی فصل کو موسمیاتی اثرات اور غیر متوقع بارشوں کی وجہ سے پیداوار میں کمی کا اندیشہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ مہنگائی اور کھاد، ایندھن اور دیگر استعمال ہونے والی اشیاکی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل کی صنعت میں بحران بھی کسانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں قدرتی وسائل کے استعمال میں بھی احتیاط برتنی چاہیے،میں نے اپنے والدین سے سیکھا ہے کہ کسی بھی چیز کا ضیاع درست نہیں،اگر اللہ نے ہمیں کوئی چیز بکثرت دے رکھی ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے اس کو اعتدال کے ساتھ استعمال کریں نہ کے اسے ضائع کرتے جائیں۔

مزید خبریں