لاہور (روشن پاکستان نیوز )سکھ مذہب کے تہوار بیساکھی میلہ کی تقریبات کو پر جوش طریقے سے منانے کے لئے بھارت سے تقریبا تین ہزار سکھ یاتری براستہ واہگہ بارڈر لاہور پہنچ گئے۔

واہگہ بارڈر پر سکھ یاتریوں کا بھر پور استقبال کیا گیا،سکھ یاتری تہوار کو منانے کے ساتھ ساتھ اپنے مذہبی مقامات کا دورہ بھی کریں گے۔
بیساکھی میلہ کی تین روز تقریبات گوردوارا جنم استھان ننکانہ صاحب میں 15 اپریل سے شروع ہوں گی۔بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتری شرکت کریں گے۔
یاتریوں کو پاکستان ریلویز کے اعلیٰ حکام نے واہگہ ریلوے اسٹیشن پر خوش آمدید کہا۔ سکھ مہمانوں کو سپیشل ٹرینوں کے ذریعے حسن ابدال روانہ کر دیا گیا ہے۔

تقریباً ایک ہفتہ کے قیام کے دوران سکھ یاتری اپنے مذہبی مقدس مقامات پر اظہارِ عقیدت کے لیے بھی حاضری دیں گے۔سکھ مہمانوں کی آمد کے موقع پر ریلوے سٹاف کو انتظامات کے حوالے سے ضروری ہدایات بھی دی گئی تھیں۔ پاکستان ریلویز کی جانب سے سکھ یاتریوں کے لیے ٹکٹ کے حصول اور ریزرویشن کے لیے مرد و خواتین کے الگ الگ کاؤنٹرز بنائے گئے تھے۔

سکھ مہمانوں نے پاکستان ریلوے کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔چیف ایگزیکٹو افسر پاکستان ریلویز عامر علی بلوچ نے ڈویژنل سپرنٹینڈنٹس کو سکھ مہمانوں کے لیے سفری سہولیات کو یقینی بنانے کیلیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ انہوں نے ڈویژنل سپرنٹینڈنٹس پاکستان ریلویز کو ہدایت کی ہے کہ مہمانوں کی آمد و رفت کے اوقات پر سختی سے عمل کروایا جائے، سہولیات اور آرام دہ سفر کے معاملے میں کسی طرح کی کوئی کمی نہ آنے دی جائے۔
آج واہگہ ریلوے اسٹیشن پر سکھ یاتریوں کا بلا معاوضہ سامان اٹھانے کیلیے ریلوے انتظامیہ نے قلیوں کو بھی ڈیوٹی پر مامور کیا تھا۔ سکھ یاتریوں کیلیے چلائی جانے والی سکھ اسپیشل ٹرینوں سے پاکستان ریلویز کو تقریباً 23 ملین روپے آمدن ہو گی۔

تین روزہ قیام کے دوران اندرون و بیرون ملک سے آئے سکھ یاتری اپنی مذہبی عبادات ادا کریں گے۔
یاتری ننکانہ صاحب میں سات گوردوار وں کی یاترا کریں گے۔16 اپریل کو سکھ یاتری گوردوارا سچا سودا بھی جائیں گے۔۔
یاتریوں کے لیے رہائش، لنگر، صحت، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

بیساکھی میلے میں شرکت کے لیے برطانیہ سے آئے یاتریوں نے اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہم پہلی بار پاکستان آئے ہیں ہماری دلی خواہش تھی جو پوری ہوئی ۔۔
پاکستان میں اقلیتوں اور انکی عبادات گاہوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے، جو بھی سکھ یاتری پاکستان آتا ہے ،پاکستان کے امن کا سفیر بن کر واپس جاتا ہے۔











