اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)سینیئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے ایک ٹی وی پروگرام میں سابق ایڈیٹر نوائے وقت گروپ مجید نظامی کا تاریخی قصہ سنادیا۔
سینیئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے ایک ٹی وی پروگرام میں سابق ایڈیٹر نوائے وقت گروپ مجید نظامی (مرحوم)کے حوالے سے ایک تاریخی قصہ سناتے ہوئے کہاکہ یحیی خان کے دور حکومت میں چار اخبارات کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی۔
انہوں نے بتایاکہ نوائے وقت، کوہستان ،مساوات اورجابر اخباررات کے ایڈیٹرزپر مقدمے قائم ہوگئے ،یحیی خان نے ایڈیٹرز کو ملاقات کے لیے کراچی بلایا شاید میٹرو پل ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی ،وہاں میں بھی حاضر تھا ایک نوجوان ایڈیٹر کے طوراورایک ہفتہ روزہ میگزین کی نمائندگی کر رہاتھا۔
انہوں نے کہاکہ جب یحیٰ خان آئے تو مولانا کوثر نیازی کھڑے ہوئے اور کہا جناب یہ چار ایڈیٹرز کے اوپر اور اخباروں کے اوپر مقدمے قائم ہیں ،آپ کا مارشل لاء بڑا اچھا جا رہا ہے، اخباروں کے معاملے پر، آپ براہ کرم مقدمات ختم کر دیجئے ۔
یحییٰ خان نے کہاکہ اچھا !پھر ان کو کہیں کہ وہ معافی مانگیں،کوثرنیاز نے کہا کہ وہ زبان خاموش سے معافی مانگ رہے ہیں ،یہاں موجود ہیں ،بول نہیں رہے ہیں ،اس پر مجید نظامی کھڑے ہو گئے اورکہنے لگے کس بات کی معافی مانگیں ،انہوں نے کہا جو لکھا ہے پہلے جرم تو بتائیں ،اس میں کیا غلط لکھا ہے، ہم نے کیا جرم کیا ہے۔
آگے سے یحیی خان بولے اچھا تو مقدمہ لڑنا چاہتے ہو ،مجید نظامی نے کہا ہاں جی ،یحیی خان نے کہا جا لڑو جا کے،مجید نظامی نے کہا کہ کہاں لڑئیں جس پریحیی خان نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں لڑو ۔
مزید پڑھیں: مجھے جیل میں رکھ لیں مگر باقی رہنماؤں کو رہا کردیں، عمران خان
اس پر مجید نظامی نے کہا کہ فوجیوں کو کیا پتہ کہ اخبار کیا ہوتے ہیں ،اس بات پر ہر طرف سناٹا چھاگیا اور جب میٹنگ ختم ہوئی تو مشرقی پاکستان کے جتنے ایڈیٹر تھے ، مجید نظامی کے گرد گھیرا کیے ہوئے تھے اوران کو داد دے رہے تھے اور ہمارے جو ایڈیٹر تھے وہ ڈرے اوردب کے بیٹھے تھے ۔
انہوں نے کہاکہ اج مزید نظامی کا یوم پیدائش ہے ،بڑے دبنگ تھے ،اپنی بات کہنے کا ان کا اپنے ایک انداز تھا اور مارشل لاء سے لڑتے جھگڑتے زندگی گزر گئی۔
مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ اللہ تعالی مجید نظامی کے درجات بلند کرے اوران کی مغفرت کرے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔











