جمعرات,  17  ستمبر 2026ء
نیتن یاہو کو ممدانی سے محفوظ رکھنے کے لیے اسرائیل کی نئی تدبیر

تل ابیب(روشن پاکستان نیوز)  نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیتن یاہو کو ظہران ممدانی کا اتنا خوف لاحق ہو گیا ہے کہ اسرائیل یہ سوچنے کے لیے سر پکڑ کر بیٹھ گیا ہے کہ وزیر اعظم کو کیسے ’’محفوظ‘‘ رکھا جائے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کے نیویارک دورے کے دوران سیکیورٹی، احتجاج اور گرفتاری سے متعلق خدشات کے باعث اسرائیل ان کے طیارے کے لیے معمول کی بہ جائے متبادل ایئرپورٹ یا فوجی اڈا استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے۔ اسرائیل نیتن یاہو کے سرکاری طیارے کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر اتارنے کی بہ جائے دوسرے راستے استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

امریکا اپنی مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں بناسکتا، جے ڈی وینس

اس کی وجہ یہ خدشہ ہے کہ ہو سکتا ہے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی طیارے کو دورے کے دوران ایئرپورٹ پر کھڑا رکھنے کی اجازت نہ دیں، تو ایسے میں متبادل کے طور پر نیوارک لبرٹی ایئرپورٹ یا کسی قریبی فوجی اڈے کو استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

نیتن یاہو کے دورے کے دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جائیں گے، امریکی سیکرٹ سروس بھی ان کی سیکیورٹی میں اہم کردار ادا کرے گی، تاہم نیتن یاہو کے قیام والے ہوٹل کے باہر بڑے احتجاج کی توقع ہے، اقوام متحدہ کے دفتر کے قریب بھی اس وقت احتجاج ہوگا جب نیتن یاہو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

یاد رہے کہ میئر ظہران ممدانی نے پہلے کہا تھا کہ وہ اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ نیتن یاہو کو غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا نہیں، تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ انھیں اسرائیلی وزیر اعظم کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ نیتن یاہو کو امریکا میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے بدھ کو امریکا پہنچنے اور جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے کا پروگرام ہے۔ ان کے موجودہ شیڈول میں ٹرمپ سے ملاقات شامل نہیں، وہ ان پہنچنے سے قبل ہی شہر سے روانہ ہو جائیں گے۔

مزید خبریں